حدیث نمبر: 1535
- (فإنَّك نِعْمَ ما رأيتَ. قالَهُ لجابرٍ حينَ أخبَرَه بأَنَّه تزوَّج ثيباً لِتَخْدُمَ أَخواتِه الصِّغَارَ) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا جابر بن عبدللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ” جابر کیا تیری بیوی ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوہ سے شادی کی یا کنواری سے ؟ “ میں نے کہا : بیوہ سے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ کسی نوعمر لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی ؟ “ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہو گئے تھے ، ان کی بچیاں تھیں ، ( چونکہ میں ان کا کفیل ہوں اس لیے ) میں نے ناپسند کیا کہ ان کی طرح کی ہی ایک لڑکی سے نکاح کر لوں ۔ میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی تاکہ (میری بہنوں) کی جوئیں نکالے اور ان کی پھٹی پرانی قمیص سلائی کر دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تو نے بہت اچھا سوچا ۔ “

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الزواج ، والعدل بين الزوجات وتربية الاولاد والعدل بينهم وتحسين اسمائهم / حدیث: 1535
- (فإنَّك نِعْمَ ما رأيتَ. قالَهُ لجابرٍ حينَ أخبَرَه بأَنَّه تزوَّج ثيباً لِتَخْدُمَ أَخواتِه الصِّغَارَ) .
_____________________

أخرجه أحمد (2/358)، وابن أبي شيبة في "المصنف " (4/417) قالا: حدثنا عَبِيدة بن حميد عن الأسود بن قيس العبدي عن نُبَيح بن عبد الله العَنَزي عن جابر بن عبد الله قال: قال لي رسول الله - صلى الله عليه وسلم -:
"يا جابر! ألك امرأة؟ " قال: قلت: نعم. قال: "أثيباً نكحت أم بكراً؟ " قال: قلت له: تزوجتها وهي ثيب، قال: فقال: "فهلا تزوجتها جويرية؟ " قال له: قُتل أبي معك يوم كذا وكذا، وترك جواري، فكرهت أن أضم جارية كإحداهن، فتزوجت ثيباً تقصع قملة إحداهن، وتخيط درع إحداهن إذا تَخرّق! قال: فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ... فذكره.
وسياق السند لابن أبي شيبة، وفي متنه أخطاء مطبعية كثيرة تصخَّح من سياقه هنا؛ وهو لأحمد.
قلت: وإسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين؛ غير نبيح هذا، وقد وثقة أبو زرعة والعجلي وابن حبان، وصحح له الترمذي- وصرَّح بتوثيقه-، وابن خزيمة، وابن حبان والحاكم، وروى عنه أبو خالد الدالاني أيضاً. وأما الحافظ فقال:
__________جزء: 7 /صفحہ: 448__________

"مقبول "! وهذا منه هنا غير مقبول؛ لتوثيق من ذكرنا أولاً، ولكونه تابعيَّاً ثانياً؛ ولهذا قال الذهبي في "الكاشف ":
"ثقة".
ثم رأيتُ الحافظَ ابن حجر نفسه يوثّقه في "الإصابة" (1/13) ؛ فالحمد لله.
والحديث أخرجه الشيخان وأحمد وغيرهم من طرق أخرى عن جابر بنحوه، وهو مخرج في "الإرواء" (6/196- 197)، وفي بعضها: "بارك الله لك "، أو قال خيراً.
وفي أخرى:
"أصبت، إن شاء الله ".
وفي لفظ:
" ألا تزوجتها بكراً تلاعبك وتلاعبها، وتضاحكك وتضاحكها؟! ". *