سلسله احاديث صحيحه
الخلافة والبيعة والطاعة والامارة— خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان
باب: قریش امارت کے زیادہ مستحق ہیں، بشرطیکہ . . .
- " دفن في الطينة التي خلق منها ".سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھر ، جس میں چند قریشی بیٹھے تھے ، کے دروازے پر تشریف لائے ، دروازے کی چوکھٹ پکڑ کر کھڑے ہو گئے اور پوچھا: ”آیا گھر میں صرف قریشی ہیں ؟“ کہا: گیا : اے اللہ کے رسول ! (ہم سب قریشی ہیں البتہ ) ہمارا بھانجا بھی موجود ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”قوم کا بھانجا تو ان میں سے ہی ہوتا ہے ۔“ پھر فرمایا : ”یہ ( امارت کا ) معاملہ اس وقت تک قریشیوں میں رہے گا جب تک وہ رحم کی درخواست پر رحم کرتے رہیں گے ، عدل کے ساتھ فیصلے کرتے رہیں گے اور تقسیم کے وقت انصاف کرتے رہیں گے ، جو ایسا نہیں کرے گا اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ، اس کی فرضی عبادت قبول ہو گی نہ نفلی ۔“
_____________________
رواه أبو نعيم في " أخبار أصبهان " (2 / 304) والخطيب في " الموضح " (2 /
104) عن عبد الله بن عيسى حدثنا يحيى البكاء عن ابن عمر أن حبشيا دفن
بالمدينة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
قلت: وهذا إسناد ضعيف، يحيى البكاء وهو ابن مسلم البصري ضعيف. ومثله عبد
الله بن عيسى وهو الخراز البصري، وبه وحده أعله الهيثمي (3 / 42) بعد أن
عزاه للطبراني في " الكبير ". وله شاهد من حديث عبد الله بن جعفر بن نجيح
حدثنا أبي حدثنا أنيس بن أبي يحيى عن أبيه عن أبي سعيد: أن النبي صلى الله
عليه وسلم مر بالمدينة فرأى جماعة يحفرون قبرا، فسأل عنه، فقالوا: حبشيا قدم
فمات، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا إله إلا الله سيق من أرضه وسمائه
إلى التربة التي خلق منها ". أخرجه البزار (رقم - 842 - كشف الأستار) و (ص
- 91 - زوائد ابن حجر) وقال: " لا نعلمه عن أبي سعيد إلا بهذا الإسناد
وأنيس وأبوه صالحان ".
قلت: وعبد الله بن جعفر ضعيف، وأبوه لم أعرفه. وله شاهد آخر من حديث أبي
الدرداء نحوه. قال الهيثمي: " رواه الطبراني في " الأوسط " وفيه الأحوص بن
حكيم وثقه العجلي وضعفه الجمهور ".
__________جزء: 4 /صفحہ: 473__________
قلت: فالحديث عندي حسن بمجموع طرقه. والله أعلم.