حدیث نمبر: 1361
- " ليوشك رجل أن يتمنى أنه خر من الثريا، ولم يل من أمر الناس شيئا ".
حافظ محفوظ احمد

یزید بن شریک کہتے ہیں کہ ضحاک بن قیس نے اس زیبائش کا کپڑا دے کر مروان کے پاس بھیجا ۔ مروان نے چوکیدار سے کہا: دیکھو ، دروازے پر کون ہے ؟ اس نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اس نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی اور کہا: ابوہریرہ ! رسول اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کرو ۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”عنقریب آدمی یہ تمنا کرے گا کہ اگر وہ ثریا ستارے سے گر پڑے (تو کوئی بات نہیں ، لیکن کہیں) ایسا نہ ہو کہ اسے لوگوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا دیا جائے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الخلافة والبيعة والطاعة والامارة / حدیث: 1361
- " ليوشك رجل أن يتمنى أنه خر من الثريا، ولم يل من أمر الناس شيئا ".
_____________________

أخرجه الحاكم (4 / 91) من طريق عاصم بن بهدلة عن يزيد بن شريك أن الضحاك
بن قيس بعث معه بكسوة إلى مروان بن الحكم فقال مروان للبواب:
أنظر من بالباب؟ قال: أبو هريرة، فأذن له فقال: يا أبا هريرة حدثنا
حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: سمعت رسول الله صلى الله
عليه وسلم يقول: فذكره. وقال: " صحيح الإسناد "، ووافقه الذهبي.
قلت: وإنما هو حسن فقط للخلاف المعروف في حفظ عاصم هذا، والذهبي نفسه لما
ترجمه في " الميزان "، وحكى أقوال الأئمة فيه قال:
" قلت: هو حسن الحديث ".