سلسله احاديث صحيحه
الحدود والمعاملات والاحكام— حدود، معاملات، احکام
باب: مظلوم کے لیے انتقام لینے کا اصول
- " نصبر ولا نعاقب ".سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب احد والے دن چونسٹھ انصاری اور چھ مہاجرین شہید ہو گئے تو اصحاب رسول نے کہا: اب اگر ایسا دن آیا تو ہم (اپنے شہدا کی) تعداد سے بڑھ کر مشرکوں سے انتقام لیں گے ۔ جب فتح مکہ والا دن آیا تو ایک غیر معروف آدمی نے کہا: آج کے بعد قریش نیست و نابود ہو جائیں گے اور ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا ہر کالے گورے (یعنی ہر خاص و عام) کو امن ملے گا ، مگر فلاں ، فلاں . . . چند لوگوں کے نام لیے ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما دیں : ”اور اگر تم بدلہ لو تو اتنا ہی جتنا تم کو نقصان پہنچا ہے اور جو (لوگوں کی ایذا پر) صبر کرے تو صبر کرنے والوں کے لیے (بدلہ لینے سے )بہتر ہے ۔ “(سورہ نحل : 126) رسول اللہ نے فرمایا : ”ہم صبر کرتے ہیں اور بدلہ نہیں لیتے ۔ “
_____________________
أخرجه عبد الله بن أحمد (5 / 135): حدثنا أبو صالح هدبة بن عبد الوهاب
المروزي حدثنا الفضل بن موسى حدثنا عيسى بن عبيد عن الربيع بن أنس عن أبي
العالية عن أبي بن كعب قال: " لما كان يوم أحد قتل من الأنصار أربعة
وستون رجلا ومن المهاجرين ستة، فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: لئن
كان لنا يوم مثل هذا من المشركين لنربين عليهم، فلما كان يوم الفتح، قال رجل
لا يعرف: لا قريش بعد اليوم، فنادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أمن
الأسود والأبيض، إلا فلانا وفلانا ناسا سماهم، فأنزل الله تبارك وتعالى:
__________جزء: 5 /صفحہ: 490__________
* (وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصابرين) * (¬1)
، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فذكره. قلت: وهذا إسناد حسن،
رجاله كلهم صدوقون، وفي بعضهم كلام يسير.