سلسله احاديث صحيحه
الحدود والمعاملات والاحكام— حدود، معاملات، احکام
باب: دل کے ثابت قدم رہنے کی دعا اور وجہ
- " كان أكثر دعائه: يا مقلب القلوب! ثبت قلبي على دينك. فقيل له في ذلك. فقال: إنه ليس آدمي إلا وقلبه بين إصبعين من أصابع الله، فمن شاء أقام ومن شاء أزاغ ".شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ام المؤمنین ! جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس ہوتے تو کون سی دعا بکثرت پڑھتے تھے ؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر یہ دعا پڑھتے تھے : ”اے دلوں کو الٹ پلٹ کرنے والے ! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ ۔ “ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دعا کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے ۔ (اس کی مرضی ہے کہ) جس کو چاہے (راہ ہدایت پر) ثابت رکھے اور جس کو چاہے گمرہ کر دے ۔ “
_____________________
أخرجه الترمذي (3517) وابن أبي شيبة في " الإيمان " (رقم 56 - بتحقيقي)
وأحمد (6 / 302، 315) عن شهر بن حوشب قال: " قلت لأم سلمة: يا أم
المؤمنين! ما كان أكثر دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان عندك؟
قالت: ... " فذكره. وقال الترمذي: " حديث حسن ". قلت: يعني لغيره، وهو
كما قال أو أعلى لأن شهرا هذا وإن كان سيء الحفظ، فحديثه هذا له شواهد تقويه
. منها ما روى الحسن أن عائشة قالت: " دعوات كان رسول الله صلى الله عليه وسلم
يكثر يدعو بها ... " فذكره. أخرجه أحمد (6 / 91) . ورجاله ثقات رجال مسلم
غير أن الحسن - وهو البصري - لم يسمع من عائشة. وقد تابعه علي بن زيد عن أم
محمد عن عائشة به نحوه. أخرجه ابن أبي شيبة (رقم 57) . وعلي بن زيد - وهو
ابن جدعان - سيء الحفظ أيضا. وأم محمد - وهي زوجة أبيه - لا تعرف. ومنها
عن النواس بن سمعان الكلابي مرفوعا نحوه. أخرجه ابن ماجة (1 / 77) وأحمد (4 / 182) . وإسناده صحيح.
__________جزء: 5 /صفحہ: 126__________