سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: کب تک لوگوں سے قتال کیا جائے؟
حدیث نمبر: 127
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، ويؤمنوا بي، وبما جئت به، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله ".حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں گا جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ وہ یہ گواہی دیں کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور مجھ پر اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اپنے خونوں اور مالوں کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے، ماسوائے اسلام کے حق کے اور ان کا حساب اللہ تعالی پر ہو گا۔“
- " أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، ويؤمنوا بي، وبما جئت به، فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله ".
_____________________
أخرجه مسلم (1 / 39) من طريق العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن
أبي هريرة مرفوعا به.
والحديث صحيح متواتر عن أبي هريرة وغيره من طرق شتى بألفاظ متقاربة وقد أشرت
إليها آنفا.
__________جزء: 1 /صفحہ: 770__________
_____________________
أخرجه مسلم (1 / 39) من طريق العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن
أبي هريرة مرفوعا به.
والحديث صحيح متواتر عن أبي هريرة وغيره من طرق شتى بألفاظ متقاربة وقد أشرت
إليها آنفا.
__________جزء: 1 /صفحہ: 770__________