سلسله احاديث صحيحه
الحدود والمعاملات والاحكام— حدود، معاملات، احکام
باب: معیار خدا تقوی ہے، نہ کہ صدارت و سربراہی
- " إنه رأس قومه، فأنا أتألفهم فيه ".سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا : ”فلاں مزدور کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے ؟“ میں نے کہا: مسکین سا ہے ، بس عام لوگوں کی طرح ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”فلاں آدمی کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے ؟“ میں نے کہا: وہ تو اعلیٰ قسم کا سردار ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس قسم کا ایک مزدور فلاں قسم کے زمین بھر یا ہزاروں سادات سے بہتر ہے ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! فلاں آدمی بھی تو (اسی قسم کا سردار ہے ) اور آپ اس کی بڑی آؤ بھگت کرتے ہیں ؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ اپنی قوم کا سردار ہے ، میں اس کی تالیف قلبی کے لیے (اس سے حسن سلوک سے پیش آتا ہوں) ۔“
_____________________
أخرجه ابن وهب في " الجامع " (ص 5) قال: وأخبرني عمرو بن الحارث أن بكر بن
سوادة حدثه أن أبا سالم الجيشاني حدثه عن أبي ذر أن رسول الله صلى الله
عليه وسلم قال له: " كيف ترى جعيلا؟ قال: فقلت: مسكين، كشكله من الناس،
قال: فكيف ترى فلانا؟ قلت: سيد من السادات، قال: فجعيل خير من ملء الأرض -
أو آلاف، أو نحو ذلك - من فلان، قال: قلت يا رسول الله، ففلان هكذا وأنت
تصنع به ما تصنع؟ فقال ... " فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم، وأبو سالم الجيشاني اسمه سفيان بن
هانئ. (انظر الاستدراك رقم 32 / 12) .