سلسله احاديث صحيحه
الحدود والمعاملات والاحكام— حدود، معاملات، احکام
باب: روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینا
- (إنَّ رسولَ الله يفعلُ ذلكَ (يعني: تقبيلَ الزوجةِ وهو صائمٌ) ، أنا أتقاكم للهِ، وأعلمُكم بحدودِ اللهِ) .عطا بن یسار ، ایک انصاری آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے اسے بیان کرتے ہوئے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ، سو میں نے اپنی بیوی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی بابت سوال کرنے کے لیے بھیجا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”رسول اللہ خود اس طرح کر لیتے ہیں ۔“ جب میری بیوی نے واپس آ کر مجھے یہ حدیث سنائی تو میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بعض چیزوں کی (بطور خاص) رخصت دے دی جاتی ہے ، لہٰذا تو واپس جا اور (ذرا وضاحت کے ساتھ) دریافت کر ۔ سو اس نے واپس جا کر کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض چیزوں میں (بطور خاص) رخصتیں دی جاتی ہیں ، (ہم کیا کریں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی حدود کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ۔“
_____________________
أخرجه عبد الرزاق في "المصنف " (4/184/8412)، ومن طريقه: أحمد (5/434): أنا ابن جريج: أخبرني زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن رجل من الأنصار: أن الأنصاري أخبر عطاءً:
أنه قبَّل امرأته على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهو صائم، فأمر امرأته فسألت النبي - صلى الله عليه وسلم - عن ذلك؟ فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -:
"إن رسول الله يفعل ذلك ".
فأخبرته امرأته فقال: إن النبي يرخص له في أشياء، فارجعي إليه فقولي له، فرجعت إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فقالت: قال: إن النبي يرخص له في أشياء؟! فقال:
"أنا أتقاكم لله، وأعلمكم بحدود الله ".
قلت: وهذا إسناد صحيح رجاله كلهم ثقات رجال الشيخين إلا الرجل الأنصاري فهو لم يسم، ومعلوم أن جهالة الصحابي لا تضر؛ لأنهم كلهم عدول عند أهل السنة.
__________جزء: 7 /صفحہ: 291__________
والحديث أخرجه مالك (1/273) عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار: أن رجلاً ... ؛ فأرسله. لم يذكر الرجل الأنصاري، والموصول أرجح؛ لأن زيادة الثقة مقبولة.
وللحديث شواهد كثيرة من حديث عائشة وغيرها بنحوه من طرق بألفاظ متقاربة، تقدم أحدها برقم (328)، وفي طريق آخر عنها بلفظ:
"والله! إني لأرجو أن أكون أخشاكم لله، وأعلمكم بما أتقي ".
أخرجه مسلم وابن خزيمة وابن حبان في "صحاحهم "، وهو مخرج في "صحيح أبي داود" (2067) .
وقد كان تقدم مني تخريج هذا الحديث برواية أحمد فقط عقب حديث عائشة المشار إليه آنفاً (329)، والآن قدر لي إعادة تخريجه بزيادة فائدة والحمد لله.
وله شاهد بنحوه من حديث عمر بن أبي سلمة عند مسلم وغيره، وهو مخرج في " الإرواء " (4/84) . *