حدیث نمبر: 1227
- " أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة أشدهم عذابا للناس في الدنيا ".
حافظ محفوظ احمد

حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے ایک زمیندار آدمی کو کسی وجہ سے پکڑا ( ‏‏‏‏اور اسے سزا دی ) ۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں ابوعبیدہ سے بات کی ۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ نے امیر کو غصہ دلایا ہے ؟ خالد بن ولید نے جواب دیا : میرا ارادہ ان کو غصہ دلانے کا تو نہیں تھا ، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے ہاں اس آدمی کو شدید ترین عذاب دیا جائے گا جو دنیا میں لوگوں کو سخت سزائیں دیتا ہے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1227
- " أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة أشدهم عذابا للناس في الدنيا ".
_____________________

أخرجه أحمد (4 / 90) والحميدي (562) والطبراني في " المعجم الكبير " (1
/ 190 / 2) والضياء في " المنتقى من مسموعاته بمرو " (36 / 1) عن سفيان بن
عيينة قال: حدثنا عمرو بن دينار قال: أخبرني أبو نجيح عن خالد بن حكيم بن
حزام قال: " تناول أبو عبيدة بن الجراح رجلا من أهل الأرض بشيء، فكلمه خالد
ابن الوليد فقيل له: أغضبت الأمير، فقال خالد إني لم أرد أن أغضبه ولكن سمعت
رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح رجاله ثقات رجال مسلم غير خالد بن حكيم وهو ثقة كما
رواه ابن أبي حاتم (1 / 2 / 324) عن ابن معين.
(تنبيه): وقع في " مسند أحمد " ابن أبي نجيح. والصواب أبو نجيح.