سلسله احاديث صحيحه
الحدود والمعاملات والاحكام— حدود، معاملات، احکام
باب: ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا یا اس کے گھر سے چوری کرنا سنگین جرم ہے
- " لأن يزني الرجل بعشر نسوة أيسر عليه من أن يزني بامرأة جاره، ولأن يسرق الرجل من عشر أبيات أيسر عليه من يسرق من جاره ".سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: ”زنا کے بارے میں تم لوگ کیا کہو گے ؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے اسے حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت تک حرام رہے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنے کا جرم ہمسائے کی ایک بیوی سے بدکاری کرنے کے جرم ( کی سنگینی ) سے کم ہے ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے چوری کے بارے میں سوال کیا ، انہوں نے وہی جواب دیا جو بدکاری کے بارے میں دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنے کا جرم ہمسائے کے گھر سے چوری کرنے کے جرم ( کی سنگینی سے ) کم ہے ۔“
_____________________
رواه أحمد (6 / 8)، والبخاري في " الأدب المفرد " (رقم 103)،
والطبراني في " الكبير " (مجموع 6 / 80 / 2) عن محمد بن سعد الأنصاري
قال: سمعت أبا ظبية الكلاعي يقول: سمعت المقداد بن الأسود قال:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأصحابه:
" ما تقولون في الزنا؟ قالوا: حرمه الله ورسوله، فهو حرام إلى يوم القيامة
قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فذكر الشطر الأول من الحديث ثم
سألهم عن السرقة، فأجابوا بنحو ما أجابوا عن الزنا، ثم ذكر صلى الله عليه
وسلم الشطر الثاني منه.
قلت: وهذا إسناد جيد، ورجاله كلهم ثقات، وقول الحافظ في الكلاعي هذا
" مقبول "، يعني عند المتابعة فقط، ليس بمقبول، فقد وثقه ابن معين.
وقال الدارقطني: " ليس به بأس ". وذكره ابن حبان في " الثقات " (1 / 270)
فهو حجة.
__________جزء: 1 /صفحہ: 136__________
وقال المنذري (3 / 195)، والهيثمي (8 / 168):
" رواه أحمد والطبراني في " الكبير " و " الأوسط ورجاله ثقات ".