سلسله احاديث صحيحه
الايمان والتوحيد والدين والقدر— ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان
باب: اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 12
- " ما من نفس تموت وهي تشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، يرجع ذلك إلى قلب موقن إلا غفر الله لها ".حافظ محفوظ احمد
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو انسان اس حال میں مرتا ہے کہ وہ یقین کرنے والے دل سے گواہی دیتا ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتے ہیں۔ “
- " ما من نفس تموت وهي تشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، يرجع ذلك إلى قلب موقن إلا غفر الله لها ".
_____________________
أخرجه ابن ماجة (2 / 419) وابن حبان (5) وأحمد (5 / 229) والحميدي (
370) عن هصان بن الكاهل عن عبد الرحمن بن سمرة عن معاذ بن جبل مرفوعا.
ومن هذا الوجه أخرجه النسائي أيضا في " اليوم والليلة " (1136 - 1139) وكذا
ابن أبي شيبة وأحمد بن منيع وأبو يعلى كما في " زوائد البوصيري " (228 / 2)
.
__________جزء: 5 /صفحہ: 347__________
قلت: وإسناده حسن إن شاء الله، رجاله ثقات رجال الشيخين غير هصان بن
الكاهل، روى عنه ثقتان، وذكره ابن حبان في " الثقات " (5 / 512) . وحديثه
هذا بمعنى أحاديث أخرى في الباب، بعضها عن معاذ نفسه، منها حديث أنس عنه
مرفوعا بلفظ: " من مات وهو يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله
صادقا من قلبه، دخل الجنة ". أخرجه أحمد (5 / 229) والنسائي (1134) .
قلت: وإسناده صحيح على شرط الشيخين.
_____________________
أخرجه ابن ماجة (2 / 419) وابن حبان (5) وأحمد (5 / 229) والحميدي (
370) عن هصان بن الكاهل عن عبد الرحمن بن سمرة عن معاذ بن جبل مرفوعا.
ومن هذا الوجه أخرجه النسائي أيضا في " اليوم والليلة " (1136 - 1139) وكذا
ابن أبي شيبة وأحمد بن منيع وأبو يعلى كما في " زوائد البوصيري " (228 / 2)
.
__________جزء: 5 /صفحہ: 347__________
قلت: وإسناده حسن إن شاء الله، رجاله ثقات رجال الشيخين غير هصان بن
الكاهل، روى عنه ثقتان، وذكره ابن حبان في " الثقات " (5 / 512) . وحديثه
هذا بمعنى أحاديث أخرى في الباب، بعضها عن معاذ نفسه، منها حديث أنس عنه
مرفوعا بلفظ: " من مات وهو يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله
صادقا من قلبه، دخل الجنة ". أخرجه أحمد (5 / 229) والنسائي (1134) .
قلت: وإسناده صحيح على شرط الشيخين.
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو انسان اس حال میں مرتا ہے کہ وہ یقین کرنے والے دل سے گواہی دیتا ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتے ہیں۔“... [صحيحه: 12]
فوائد:
جو آدمی درج ذیل کلمہ یقین دل سے ادا کرے گا، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
«أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله»
اس مبارک کلمے کی ان ہی برکات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنے کی تلقین کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «أَكْثِرُوا مِنْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ أَن يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهَا وَلَقَنُوهَا مَوْتَاكُمْ» [صحيحه: 467]
”اللہ تعالی کے معبودِ برحق ہونے کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔“
جو آدمی درج ذیل کلمہ یقین دل سے ادا کرے گا، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
«أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ الله»
اس مبارک کلمے کی ان ہی برکات کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنے کی تلقین کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: «أَكْثِرُوا مِنْ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ قَبْلَ أَن يُحَالَ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهَا وَلَقَنُوهَا مَوْتَاكُمْ» [صحيحه: 467]
”اللہ تعالی کے معبودِ برحق ہونے کی گواہی کثرت سے دیتے رہا کرو، قبل اس کے کہ تمھارے اور اس کے مابین کوئی رکاٹ حائل ہو جائے اور قریب المرگ لوگوں کو اس کی تلقین کیا کرو۔“
درج بالا اقتباس سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 12 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3796 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لا الہٰ الا اللہ کی فضیلت۔`
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3796]
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کی موت اس گواہی پر ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور یہ گواہی سچے دل سے ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرما دے گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3796]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
نجات کا دارومدار دل کے یقین پر ہے، اس کے بغیر زبان کا اقرار نجات کے لیے کا فی نہیں۔
فوائد و مسائل:
نجات کا دارومدار دل کے یقین پر ہے، اس کے بغیر زبان کا اقرار نجات کے لیے کا فی نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3796 سے ماخوذ ہے۔