- " لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم. إنه لا ينبغي للإمام إذا انتهى إليه حد إلا أن يقيمه، إن الله عفو يحب العفو، * (وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم، والله غفور رحيم) * ".ابوماجدہ کہتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: میں اس پہلے آدمی کو جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا ۔ چور کو لایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، لیکن ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہو گئے ہیں ۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ایسے لگتا ہے کہ آپ اس کا ہاتھ کاٹنے کو ناپسند کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ مجھے کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ اپنے اس بھائی کے بارے میں شیطان کے مددگار نہ بنو ، ہر امام کو یہی زیب دیتا ہے کہ جونہی اس تک کوئی حد پہنچے وہ اسے نافذ کر دے ، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ”اور وہ معاف کریں اور درگزر کریں ، کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ( تمہاری خطاؤں کو بخشے ) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔“ ( سورہ نور : ۲۲ )
_____________________
أخرجه أحمد (1 / 438) والحاكم (4 / 382 - 383) والبيهقي (8 / 331) من
طريق يحيى الجابر سمعت أبا ماجدة يقول: " كنت قاعدا مع عبد الله بن مسعود
رضي الله عنه، فقال: إني لأذكر أول رجل قطعه رسول الله صلى الله عليه وسلم،
أتى بسارق فأمر بقطعه، فكأنما أسف وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا
: يا رسول الله كأنك كرهت قطعه؟ قال: وما يمنعني؟! لا تكونوا ... الخ
وقال الحاكم: " صحيح الإسناد ". وسكت عنه الذهبي وما يحسن ذلك منه، فإذا
أورد أبا ماجدة هذا في " الميزان " وقال: " لا يعرف، وقال النسائي: منكر
الحديث، وقال البخاري: ضعيف ". لكن الحديث عندي حسن، فإن جله قد ثبت مفرقا
في أحاديث، فقوله: " لا تكونوا أعوانا للشيطان على أخيكم "، أخرجه البخاري
عن أبي هريرة. انظر " المشكاة " (2621) . وقوله: " إنه لا ينبغي ... "،
يشهد له حديث ابن عمرو " تعافوا الحدود بينكم ... " وهو مخرج في " المشكاة "
(3568) . وحديث العفو، ويشهد له حديث عائشة " قولي اللهم إنك عفو تحب
العفو ... ". وهو في المشكاة (2091) . وذكر له السيوطي شاهدا آخر من رواية
ابن عدي عن عبد الله بن جعفر.