سلسله احاديث صحيحه
البيوع والكسب والزهد— خرید و فروخت، کمائی اور زہد کا بیان
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صدقہ و خیرات سے شدید محبت
- " ما ظن نبي الله لو لقي الله عز وجل وهذه عنده؟ يعني ستة دنانير أو سبعة ".سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دن میں اور عروہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ۔ انہوں نے کہا: اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس روز دیکھتے ، جس دن آپ بیمار ہوئے اور میرے پاس آپ کے چھ دینار تھے ۔ موسی راوی کا بیان ہے کہ چھ یا سات دینار تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کو خرچ کر دینے کا حکم صادر فرمایا ، لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف کی وجہ سے ( آپ کی خدمت میں ) مصروف تھی ، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاء دے دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کے بارے میں دریافت کیا اور فرمایا : ”ان چھ یا سات دیناروں کا کیا بنا ؟“ میں نے کہا: بخدا ! آپ کی تکلیف نے اتنا مشغول کر دیا کہ میں ان کو خرچ نہ کر سکی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دینار منگوائے اور اپنی ہتھیلی پر رکھے اور فرمایا : ”اللہ کے نبی کا (اپنے رب کے بارے میں) کیا گمان ہو گا ، اگر وہ اس کو اس حال میں ملے کہ یہ اس کے پاس ہوں ۔“ یعنی یہ چھ یا ساتھ دینار ۔
_____________________
أخرجه أحمد (6 / 104) عن موسى بن جبير عن أبي أمامة بن سهل قال: " دخلت أنا
وعروة بن الزبير يوما على عائشة، فقالت: لو رأيتما نبي الله صلى الله
عليه وسلم ذات يوم، في مرض مرضه، قالت: وكان له عندي ستة دنانير - قال موسى
: أو سبعة - قالت: فأمرني نبي الله صلى الله عليه وسلم أن أفرقها، قالت:
فشغلني وجع نبي الله صلى الله عليه وسلم حتى عافاه الله، قالت: ثم سألني عنها
؟ فقال: ما فعلت الستة - قال: أو السبعة -؟ قلت: لا والله، لقد كان شغلني
وجعك، قالت: فدعا بها، ثم صفها في كفه، فقال ... فذكره. (انظر الاستدراك
رقم 12 / 4) .
قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير موسى هذا، وقد ذكره ابن
حبان في " الثقات " وقال: " كان يخطىء ويخالف ".
قلت: وقد روى عنه جماعة من الثقات، ولم يذكر فيه ابن أبي حاتم (4 / 1 /
139) جرحا ولا تعديلا، وقال الحافظ في " التقريب ": " مستور ".
قلت: فمثله حسن الحديث عندي إذا لم يخالف. ولاسيما وقد تابعه محمد ابن عمرو
عن أبي سلمة عن عائشة به نحوه. أخرجه أحمد (6 / 182) وابن سعد في " الطبقات
" (2 / 238) . وله عدة طرق أخرى وشواهد، فالحديث صحيح. (انظر الاستدراك
رقم 12 / 19) .