حدیث نمبر: 1009
- " يا آل محمد! من حج منكم فليهل بعمرة في حجة ".
حافظ محفوظ احمد

ابوعمران جونی کہتے ہیں : میں نے اپنے آقاؤں کے ساتھ حج کیا ، ایک دن میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا: ام المؤمنین ! میں نے (اس موقع سے پہلے ) کبھی حج نہیں کیا ، اب میں حج سے ابتدا کروں یا عمرے سے ؟ انہوں نے کہا: تیری مرضی ہے ، حج سے پہلے عمرہ کر لے یا حج کے بعد ۔ پھر میں سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلا گیا ، انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا ، پھر میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آیا اور ان کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی بات سے آگاہ کیا ، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ”اے آل محمد ! تم میں سے جو شخص حج کرے ، وہ عمرہ سمیت حج کا احرام باندھے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحج والعمرة / حدیث: 1009
- " يا آل محمد! من حج منكم فليهل بعمرة في حجة ".
_____________________

أخرجه الطحاوي في " شرح المعاني " (1 / 379) وابن حبان (987 و 988) وأحمد
(6 / 297 و 317) وأبو يعلى (4 / 1669 - 1670) من طرق عن يزيد بن أبي حبيب
قال: حدثني أبو عمران الجوني أنه حج مع مواليه، قال: فأتيت أم سلمة فقلت:
يا أم المؤمنين! إني لم أحج قط، فبأيهما أبدأ، بالحج أو بالعمرة؟ قالت: إن
شئت فاعتمر قبل أن تحج، وإن شئت فبعد أن تحج. فذهبت إلى صفية، فقالت لي مثل
ذلك، فرجعت إلى أم سلمة، فأخبرتها بقول صفية، فقالت أم سلمة: سمعت رسول
الله صلى الله عليه وسلم يقول: فذكره. قلت: وإسناده صحيح، رجاله كلهم ثقات
رجال الشيخين غير أبي عمران الجوني - واسمه أسلم - وهو ثقة.
__________جزء: 5 /صفحہ: 605__________