حدیث نمبر: 1
- (يأخذُ اللهُ- عزَ وجل- سماواتِه وأرَضيِه بيديهِ، فيقولُ: أنا اللهُ- ويقبضُ أصابعَه ويبسطُها- أنا الملِكُ، [وتمايلَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - عن يمينه وعن شماله] حتى نظرتُ إلى المنبرِ يتحركُ من أسفلِ شيءٍ منه، حتّى إني لأقولُ: أساقطٌ هو برسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -؟) .
حافظ محفوظ احمد

عبیداللہ بن مقسم کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل اتار رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا اور کہے گا: میں اللہ ہوں ، پھر انگلیوں کو کھولے گا اور بند کرے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں جھومنے لگ گئے، حتی کہ میں نے دیکھا کہ منبر بھی ہچکولے کھانے لگ گیا اور مجھے یہ وہم ہونے لگا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا ہی نہ دے۔‏‏‏‏“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 1
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 126/8 ، وابن خزيمة فى ”التوحيد“ : 49 ، والبيهقي فى ”الأسماء والصفات“ : 339 ، وابن ماجه: 198 ، 4275»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2788 | سنن ابي داود: 4732 | سنن ابن ماجه: 198 | سنن ابن ماجه: 4275
- (يأخذُ اللهُ- عزَ وجل- سماواتِه وأرَضيِه بيديهِ، فيقولُ: أنا اللهُ- ويقبضُ أصابعَه ويبسطُها- أنا الملِكُ، [وتمايلَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - عن يمينه وعن شماله] حتى نظرتُ إلى المنبرِ يتحركُ من أسفلِ شيءٍ منه، حتّى إني لأقولُ: أساقطٌ هو برسولِ الله - صلى الله عليه وسلم -؟) .
_____________________

أخرجه مسلم (8/126-127)، وابن خزيمة في "التوحيد" (49- 50)،
والبيهقي في "الأسماء والصفات " (339) كلهم عن سعيد بن منصور: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن: حدثني أبو حازم عن عبيد الله بن مِقسَمٍ: أنه نظر إلى
عبد الله بن عمر كيف يحكي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ... فذكره.
وتابعه قتيبة بن سعيد: حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن به. أخرجه ابن حبان
(9/213/ 0 728) .
ثم أخرجه مسلم، والبيهقي من طريق سعيد بن منصور أيضاً قال: حدثنا
عبد العزيز بن أبي حازم: حدثني أبي عن عبيد الله بن مقسم عن عبد الله بن عمر قال:
رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على المنبر وهو يقول:
"يأخذ الجبار عز وجل سماواته وأرضيه بيديه ... " الحديث.
وتابعه جمع عن عبد العزيز بن أبي حازم به.
أخرجه ابن ماجه (198و4275)، والدارمي في "الرد على المريسي "
(ص 31)، وابن جرير في "التفسير" (24/18)، والطبراني في "المعجم الكبير"
(12/355/13327)، وابن منده في " التوحيد " (2/47/190) وزادوا:
__________جزء: 7 /صفحہ: 595__________

"وتمايل رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن يمينه وعن شماله، حتى نظرت ... ".
وإسنادها صحيح على شرط الشيخين.
وخالفهم في السند عبد الله بن نافع؛ فقال: عن عبد العزيز بن أبي حازم عن
أبيه عن عبيد بن عمير عن عبد الله بن عمر مرفوعاً به.
أخرجه ابن جرير.
وعبد الله بن نافع هو الصائغ المخزومي؛ وفيه ضعف من قبل حفظه، قال
الحافظ في "التقريب ":
"ثقة صحيح الكتاب، في حفظه لين ".
قلت: وقد خالفهم بذكره عبيد بن عمير مكان عبيد الله بن مقسم، وعبيد بن عمير هو الليثي المكي، وهو ثقة أيضاً من رجال الشيخين، فإن كان حفظه؛ فالإسناد صحيح، والله أعلم.
ثم وجدت له متابعاً قوياً عند الطبراني (12/389/13437)، وابن منده (2/101/248) من طريق علي بن عبد العزيز: ثنا القعنبي [عبد الله بن مسلمة]: ثنا عبد العزيز بن أبي حازم به.
وتابع أبا حازم: إسحاقُ بنُ عبد الله بن أبي طلحة عن عبيد الله بن مقسم عن
ابن عمر: أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قرأ هذه الآية ذات يوم على المنبر: (وما قدروا الله
حق قدره والأرض جميعاً قبضته يوم القيامة والسماوات مطويات بيمينه
سبحانه وتعالى عما يشركون) [الزمر: 67]، ورسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول هكذا بيده ويحركها؛ يقبل بها ويدبر، يمجِّد الرب نفسه: أنا الجبار، أنا المتكبر، أنا العزيز، أنا الكريم، فرجف برسول الله - صلى الله عليه وسلم - المنبر، حتى قلنا: ليخرَّن به.
__________جزء: 7 /صفحہ: 596__________

أخرجه أحمد (2/72) - والسياق له-، وابن أبي عاصم في "السنة " (1/240/546)، وابن خزيمة أيضاً من طرق عن حماد بن سلمة عنه.
وإسناده صحيح على شرط مسلم.
والحديث أورده شيخ الإسلام ابن تيمية في "الفتاوى" (5/ 481) بزيادة
بعض الأسماء الحسنى فيه، وقوله:
"أنا الذي بدأت الدنيا ولم تك شيئاً، أنا الذي أعيدها".
وقال:
"رواه ابن منده وابن خزيمة وعثمان بن سعيد الدارمي وسعيد بن منصور
وغيرهم من الأئمة الحفاظ النقاد الجهابذة".
ولم أجد لهذه الزيادة ذِكراً في شيء من المصادر المتقدمة، والله سبحانه
وتعالى أعلم. *

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لے گا اور کہے گا: میں اللہ ہوں، پھر انگلیوں کو کھولے گا اور بند کرے گا اور کہے گا: میں بادشاہ ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں بائیں جھومنے لگ گئے... [سلسله احاديث صحيحه ح: 1]
فوائد:

اس حدیث کے مضمون کی مزید وضاحت ملاحظہ فرمائیں: ارشاد باری تعالی ہے: «وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَالسَّموتُ مَطويات بِيَهِينِهِ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [سوره زمر: 67]

یعنی: اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالی کی کرنی چاہیے تھی، اس طرح نہیں کی، حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اللہ تعالی کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں۔

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ہم اللہ تعالی کی بابت (اپنے مذہبی ادب میں) یہ بات پاتے ہیں کہ وہ روزِ قیامت آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور تری کو ایک انگلی پر اور تمام دوسری مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق کرتے ہوئے مسکرا پڑے، حتی کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدره» (جو اوپر مذکور ہے) تلاوت کی۔ [بخاري: 4811] سیدنا ابو هریره رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ تعالی اس وقت کہے گا: «انا الملك، اين ملوك الارض» یعنی: میں بادشاہ ہوں، زمین والے بادشاہ کہاں ہیں۔ [بخاري: 4812]

یہ اللہ تعالی کی طاقت و قدرت اور عظمت و جلالت کا ایک انداز ہے۔

سلف صالحین کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث میں اللہ تعالی کی جن صفات کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان پر بلا کیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضرور کی ہے۔ مثلا درج بالا آیت و احادیث میں اللہ تعالی کے دو ہاتھوں، انگلیوں، انگلیوں کو کھولنے اور بند کرنے اور کلام کرنے کا ذکر ہے، یہ اللہ تعالی کی حقیقی صفات ہیں، جیسے اس کے شان و جلال کے لائق ہیں۔

بندوں کو یہی زیب دیتا ہے کہ ایسے قدیر و مقتدر بادشاہ کی الوہیت و ربوبیت کو تسلیم کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں اور اس کی ذات اور اس کی ہر صفت میں اس کو یکتا و یگانہ اور لاثانی و بے مثال سمجھیں اور اس کے ہر حکم کو برحق تسلیم کر کے اس پر عمل کرنے کے تقاضے پورے کریں، اسی کو توحید کہتے ہیں، جس کے فروغ کے لیے کائنات کا وسیع و عریض نظام تشکیل دیا گیا۔
درج بالا اقتباس سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 1 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2788 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
عبید اللہ بن مقسم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اس نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف دیکھا وہ کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:"اللہ عزوجل اپنےآسمانوں اور اپنی زمینوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑے گا اور فرمائےگا۔میں ہوں، اللہ اور اپنی انگلیوں کو سمیٹے گا اور انہیں پھیلائے گا، میں ہوں بادشاہ۔"حتی کہ میں منبر کو دیکھا وہ نیچے تک سے حرکت کر رہا تھا حتی کہ میں دل میں کہہ رہا تھا، کیا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7052]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انگلیوں کے قبض وبسط کا تعلق اگر اللہ تعالیٰ سے ہے تو پھر اس کی کیفیت وحقیقت کوجانناممکن نہیں ہے اور اگر اس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے تو پھر آپ نے آسمانوں اور زمینوں کے پھیلاؤاور سمیٹنے کی طرف اشارہ کیا کہ یہ اس طرح سمیٹ لیے جائیں گے، اللہ کے قبض و بسط کی کیفیت بیان کرنا مقصود نہیں ہے، کیونکہ اس کی کسی صفت کو تشبیہ دینا درست نہیں ہے، وہ تو ليس كمثله شئی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2788 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4732 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جہمیہ کے رد کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا، اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا، پھر کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے؟ کہاں ہیں اترانے والے؟۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4732]
فوائد ومسائل:
1: اللہ عزوجل کی صفات میں وارد الفاظ واضح اور صریح ہیں، ہم انہیں اپنے رب تعالی کے حق میں بلا جھجک استعمال کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں، لیکن ان کی حقیقت کا ہمیں کوئی ادراک نہیں کیونکہ (لَیسَ کمثلهِ شيءٌ وھو السمیعُ البصیرُ) (الشوری)
2:اللہ کے دو ہاتھ ہیں اور دونوں ہی داہنے ہیں اور اللہ تعالی کلام کرنے سے موصوف ہے۔

3: حقیقی بادشاہ تو اب بھی اللہ عزوجل ہی ہے، مگر دنیا میں نام کے بادشاہ موجود ہیں اور ان میں جبار اور متکبر بھی ہیں، لیکن محشر میں کسی کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور بادشاہت صرف ایک اکیلے اللہ کی ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4732 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4275 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حشر کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: جبار (اللہ) آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، (آپ نے مٹھی بند کی پھر اس کو بند کرنے اور کھولنے لگے) پھر فرمائے گا: میں جبار ہوں، میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں دوسرے جبار؟ کہاں ہیں دوسرے متکبر؟ یہ کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھک رہے تھے، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ منبر کچھ نیچے سے ہل رہا تھا، حتیٰ کہ میں کہنے لگا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4275]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ کا ہاتھ ا س کی صفت ہے۔
جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔
اس کی تاویل کرنا بھی درست نہیں اور انسانی ہاتھ سے تشبیہ دینا بھی درست نہیں۔

(2)
اللہ کا کلام کرنا بھی اس کی صفت ہے اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کلام فرماتا ہے۔
اور جس مخلوق سے کلام فرماتا ہے۔
انھیں آواز سنائی دیتی ہے۔
جیسے فرشتوں سے کلام فرماتا ہے۔
یا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا ہے۔
یاقیامت کے دن بندوں سے کلام فرمائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4275 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 198 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: «جبار» (اللہ تعالیٰ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے) اور فرمائے گا: میں «جبار» ہوں، کہاں ہیں «جبار» اور کہاں ہیں تکبر (گھمنڈ) کرنے والے؟ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 198]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا ثبوت ملتا ہے۔
ہاتھ سے مراد قدرت لینا باطل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کر کے بات کو واضح فرما دیا ہے، پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو ذرہ بھر تعجب نہ ہوا، ورنہ خلاف عقل بات سمجھ کر ضرور سوال کرتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کو من و عن تسلیم کرتے تھے۔
كَمَا يَلِيقُ بِجَلَالِه. اس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کا پتہ چلتا ہے کہ اتنی عظیم اور وسیع مخلوق اللہ تعالیٰ کے لیے ایک معمولی ذرے کی طرح ہے۔

(3)
وعظ میں مناسب موقع پر جوش یا غضب کا اظہار جائز ہے۔

(4)
تکبر(بڑائی کا اظہار)
بہت بڑی خصلت ہے جو انسان جیسی ضعیف اور حقیر مخلوق کے لائق نہیں، البتہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان ہی اس لائق ہے کہ وہ تکبر یعنی بڑائی اور عظمت کے اظہار کی صفت سے متصف ہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 198 سے ماخوذ ہے۔