کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: میری امت کو میری وفات کا غم آل و اولاد سب سے زیادہ ہے
حدیث نمبر: 399
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا أُمِّي سِمَاكَ بْنَ الْوَلِيدِ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِمَا الْجَنَّةَ» ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ» قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: «فَأَنَا فَرَطٌ لِأُمَّتِي، لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس شخص کے دو نابالغ بچے فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو ان دونوں کے بدلہ میں جنت میں داخل کرے گا۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں: اللہ کے رسول! آپ کی امت میں سے جس کا ایک بچہ فوت ہو جائے؟ فرمایا: ”ہاں! جس کا ایک بچہ بھی فوت ہو جائے۔ اے وہ خاتون جس کو اچھی بات کی توفیق نصیب ہوئی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پھر عرض کیا: اور جس کا ایک بھی نابالغ بچہ فوت نہ ہوا ہو؟، فرمایا: ”میں اپنی امت کے ہر اس شخص کا پیش رو (سفارش کنندہ) ہوں گا جنہوں نے میری جدائی کے صدمہ جیسا کوئی بھی صدمہ دنیا میں نہیں پایا۔“
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب: ما جاء فى وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 399
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج حدیث { « سنده حسن » } :
«(سنن ترمذي: 1062، وقال: حسن غريب) ، مسند احمد (334/1)»