کتب حدیث ›
شمائل ترمذي › ابواب
› باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری لمحات میں اپنے ہاتھ تر کر کے چہرۂ انور پر پھیر رہے تھے
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمَوْتِ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، وَهُوَ يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى مُنْكَرَاتِ - أَوْ قَالَ عَلَى سَكَرَاتِ - الْمَوْتِ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پر موت کی حالت طاری تھی اور آپ کے پاس ایک پیالہ پڑا ہوا تھا جس میں پانی تھا۔ آپ اپنا دست مبارک پیالہ میں ڈالتے پھر پانی سے چہرہ انور صاف کرتے اور فرماتے: ”اے اللہ! موت کی سختیوں میں“ یا فرمایا ”موت کی بے ہوشیوں میں میری مدد فرما۔“