کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار
حدیث نمبر: 386
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَشْفُ السِّتَارَةِ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَشَارَ إِلَى النَّاسِ أَنِ اثْبُتُوا، وَأَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّهُمْ وَأَلْقَى السِّجْفَ، وَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آخری نظر جس سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ سوموار کا دن تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ اٹھایا تو میں نے آپ کے چہرہ انور کو دیکھا گویا کہ وہ قرآن کریم کا ورق تھا۔ لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے قریب تھا کہ لوگ اپنی جگہوں سے حرکت کر جائیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی امامت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو نیچے گرایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن کے آخر میں وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب: ما جاء فى وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 386
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث { « صحيح » } :
«صحيح بخاري (680) من حديث الزهري ، صحيح مسلم (419) من حديث سفيان بن عيينة به.»