حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ فَتَمَخَّطَ فِي أَحَدِهِمَا، فَقَالَ: «بَخٍ بَخٍ يَتَمَخَّطُ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي الْكَتَّانِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَيَّ فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي يَرَى أَنَّ بِي جُنُونًا، وَمَا بِي جُنُونٌ، وَمَا هُوَ إِلَّا الْجُوعُ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ انہوں نے کاٹن کی یا سلکی دو رنگی ہوئی سرخ پھولوں والی چادریں اوڑھ رکھی تھیں۔ انہوں نے ان میں سے ایک کے ساتھ اپنے ناک کو صاف کیا اور فرمایا: زہے زہے ابوہریرہ! آج کتان کے کپڑے سے ناک صاف کر رہے ہو، البتہ قسم ہے کہ مجھ پر ایسی حالت بھی گزری ہے کہ جب میں بھوک کی وجہ سے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے کے درمیان نیم بے ہوشی کے عالم میں گرا پڑتا، تو گزرنے والا مجھے دیوانہ سمجھ کر میری گردن کو روندتے ہوئے گزر جاتا، حالانکہ مجھے کسی قسم کی دیوانگی نہ تھی، یہ صرف انتہائی بھوک کی وجہ سے ہوتا۔
حدیث نمبر: 369
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: «مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزٍ قَطُّ وَلَا لَحْمٍ، إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ» . قَالَ مَالِكٌ: سَأَلْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ: مَا الضَّفَفُ؟ قَالَ: «أَنْ يَتَنَاوَلَ مَعَ النَّاسِ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
مالک بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی روٹی اور نہ ہی گوشت شکم سیر ہو کر اکیلے نہیں کھایا مگر لوگوں کے ساتھ۔ مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ایک دیہاتی سے «ضَفَف» کے معنی پوچھے تو اس نے کہا کہ اس کے معنی ہیں ”لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا تناول کرنا۔“