کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم حیاء کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے
حدیث نمبر: 358
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: «مَا نَظَرْتُ إِلَى فَرْجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» أَوْ قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محل شرم پر نظر نہیں کی۔ یا فرمایا کہ میں نے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاء اور تستّر کی وجہ سے) آپ کی شرم گاہ کو کبھی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى حياء رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 358
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث { « سنده ضعيف » } :
«سنن ابن ماجه (662 ، 1922)»
اس روایت کی سند اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلام مجہول راوی ہے۔ بوصیری نے کہا: «هذا إسناد ضعيف ، مولي عائشه لم يسم» یہ سند ضعیف ہے، عائشہ کے غلام کا نام (اور توثیق) معلوم نہیں ہے۔ (زوائد سنن ابن ماجہ بحوالہ انوار الصحیفہ ص 402)
فائدہ: ضعیف روایت کا وجود اور عدمِ وجود ایک برابر ہے۔ دیکھئے کتاب المجروحین لابن حبان (328/1 ترجمۃ سعید بن زیاد بن قائد ، دوسرا نسخہ 412/1)