کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ وَهُوَ يَبْكِي» أَوْ قَالَ: «عَيْنَاهُ تَهْرَاقَانِ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا جبکہ وہ فوت ہو چکے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت رو رہے تھے یا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى بكاء رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 325
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث { « سنده ضعيف » } :
«(سنن ترمذي: 989 ، وقال: حسن صحيح) ، سنن ابي داود (3163) ، سنن ابن ماجه (1456)»
اس روایت کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہے۔ (دیکھئے تقریب التہذیب: 3065)
جمہور نے اسے ضعیف قراردیا ہے۔ (دیکھئے خلاصۃ الاحکام للنووی 87/1 ح 98 ، عمدۃ القاری للعینی 13/11، اور مجمع الزوائد للہیثمی 150/8)
مسند البزار (کشف الاستار: 806) اور حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی (105/1) و غیرہما میں اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔