حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: «كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ» . قَالَتْ: «وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزے ہی رکھیں گے اور افطار کرتے تو ہم کہتے کہ اب آپ افطار ہی کریں گے اور جب سے آپ مدینہ آئے، رمضان المبارک کے علاوہ کسی بھی مکمل مہینے کے آپ نے روزے نہیں رکھے۔