کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر کی بناء پر کھڑے ہو کر پیا
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا عَبِيدَةُ بِنْتُ نَائِلٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ أَبِيهَا، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا» قَالَ: أَبُو عِيسَى: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عُبَيْدَةُ بِنْتُ نَابِلٍ
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
عائشہ بنت سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے۔ امام ابوعیسیٰ (ترمذی) فرماتے ہیں: بعض راویوں نے عبیدہ بنت نائل کے بجائے عبیدہ بنت نابل کہا ہے۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 214
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث { « سنده ضعيف » } :
«اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم (ص226)»
اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے :
➊ اسحاق بن محمد افروی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے ۔
➋ عبیدہ بنت نائل مجہولتہ الحال راویہ ہے ، ابن حبان کے علاوہ کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی اور مجہول الحال یا مجہولتہ الحال کی روایت ضعیف ہوتی ہے ۔
تنبیہ : حدیث سابق (206) اس ضعیف روایت سے بے نیاز کر دیتی ہے ۔