کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: وضو کا بقیہ پانی کھڑے ہو کر پینا
حدیث نمبر: 208
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: «أَتَى عَلِيٌّ، بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ وَهُوَ فِي الرَّحْبَةِ فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ، ثُمَّ شَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ، هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
نزال بن سبرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس پانی کا ایک کوزہ (پیالہ) لایا گیا جب کہ آپ رحبہ کے مقام پر تھے، آپ نے اس سے ایک چلو لیا اور دونوں ہاتھ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور چہرہ، کلائیوں اور سر کا مسح کیا، پھر کھڑے ہونے کی حالت میں اس پانی سے پیا اور فرمایا: یہ اس شخص کا وضو ہے جو بے وضو نہ ہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى صفة شرب رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 208
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث { «سنده صحيح » } :
«صحيح بخاري (5615-5616)»