کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: دسترخوان سے اٹھتے وقت کی دعا اور اس کی لغوی تحقیق
حدیث نمبر: 191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ يَقُولُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُودَعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے: ”«الحمد لله حمدا طيبا مباركا فيه غير مودع ولا مستغني عنه ربنا»، کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، بہت زیادہ تعریفیں، پاکیزہ اور برکت والی! اے اللہ! ہمارے رب! نہ ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں نہ اس سے مستغنی ہو سکتے ہیں۔“
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى قول رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل الطعام وبعدما يفرغ منه / حدیث: 191
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث { «سنده صحيح» } :
«(سنن ترمذي: 3456 ، وقال: حسن صحيح) ، (صحيح بخاري : 5458) ، (سنن ابي داود : 3849)»