حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: طَبَخْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِدْرًا وَقَدْ كَانَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» ، فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ: «نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَمْ لِلشَّاةِ مِنْ ذِرَاعٍ فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي الذِّرَاعَ مَا دَعَوْتُ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
عبید (ابوعبیدہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (گوشت کی) ایک ہنڈیا پکائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زراع (بونگ) کا گوشت بہت پسند تھا، تو میں نے آپ کو ایک بونگ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اور زراع دو۔“ میں نے دوسری پیش کی۔ پھر فرمایا: ”مجھے اور زراع دو۔“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک بکری کے کتنے زراع ہوتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم خاموش رہتے تو جب تک میں طلب کرتا جاتا تم مجھے زراع دیتے ہی رہتے۔“