کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: فتح والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں نہیں تھے
حدیث نمبر: 112
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ قَالَ: فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حالت میں داخل ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا، جب آپ نے اسے اتارا تو ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا: ابن خطل (جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرنے کا حکم دے رکھا ہے) کعبة اللہ کے پردوں سے لٹکا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو۔“ ابن شہاب (زہری) فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى صفة مغفر رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 112
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح، متفق عليه
تخریج حدیث { «صحيح ، متفق عليه» } :
دیکھئیے حدیث سابق:111
امام زہری کی مرسل کی تائید کے لئے دیکھئے حدیث نمبر 113