کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی کیوں بنوائی
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ قِيلَ لَهُ: إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ "
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء عجم کو خطوط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو عرض کیا گیا کہ امراء عجم ان خطوط کو قبول نہیں کرتے جس پر مہر نہ لگی ہو، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، گویا میں اس کی سفیدی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی مبارک میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى ذكر خاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 89
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث { «صحيح» } :
« (سنن ترمذي:2718 وقال:هذا حديث حسن صحيح)، صحيح مسلم (2092) من حديث معاذ بن هشام وصحيح بخاري (65) من حديث قتادة به.»