کتب حدیثشمائل ترمذيابوابباب: بال مبارک نہ بہت زیادہ گھنگھریالے نہ بالکل سیدھے
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَيْفَ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ، كَانَ يَبْلُغُ شَعْرُهُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کیسے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ تو بہت زیادہ گھنگھریالے تھے، اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک آپ کے کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔
حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 27
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده صحيح
تخریج حدیث { «سنده صحيح» } :
« صحيح بخاري (5905) ، صحيح مسلم (2338)»