حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسُوا الْبَيَاضَ؛ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ»
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سفید لباس پہنا کرو، یہ پاک اور صاف ہوتے ہیں اور اس میں اپنے فوت شدگان کو کفن دیا کرو۔“

حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى لباس رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 69
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج حدیث { «سنده ضعيف» } :
« (سنن ترمذي : 2810 ، وقال : حسن صحيح ) ، (سنن ابن ماجه : 3567) ، المستدرك للحاكم (185/4) وصححه على شرط الشيخين ووافقه الذهبي . !»
◈ مستدرک میں سفیان ثوری کے سماع کی تصریح موجود ہے ، لیکن حبیب بن ابی ثابت ثقہ مدلس تھے اور ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ، حکم بن عتیبہ (ثقہ مدلس ) نے ان کی متابعت کر رکھی ہے ۔ [مسند احمد 17/5 ح 20185]
لیکن حکم کے سماع کی تصریح بھی موجود نہیں ، لہٰذا یہ سند ضیعف ہے ۔ دوسرے یہ کہ میمون بن ابی شبیب کے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں بھی نظر ہے ۔
SB فائدہ : EB مسند احمد میں «فانما اطهر و اطيب» کے بغیر اس حدیث کا ایک شاہد ہے ، جس کی سند صحیح ہے ۔ [21/5 ح20235]
سنن نسائی (5324) وغیرہ میں ایک شاہد «فانما اطهر و اطيب» کے الفاظ کے ساتھ ہے ، لیکن اس کی سند میں سعید بن ابی عروبہ ثقہ مدلس ہیں اور سند عن سے ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے اور یہ «اطهر و اطيب» کے الفاظ کے بغیر صحیح ہے ۔