شمائل ترمذي
باب ما جاء فى لباس رسول الله صلى الله عليه وسلم— رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا بیان
باب: نیا کپڑا پہننے کی دعا
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اس کو اس نام سے موسوم فرماتے، جیسے عمامہ، قمیص یا چادر، پھر (یہ دعا) پڑھتے: «اللهم لك الحمد كما كسوتنيه، اسألك خيره وخير ما صنع له، وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے جس طرح تو نے مجھے یہ پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر اور جس چیز کے لیے بنایا گیا اس کے شر سے۔“