حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْيَنْهِ تَدمَعَانِ، فَقَالَ: «أَفِيكُمْ رَجُلٌ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟» قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا قَالَ: «انْزِلْ» فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا
ترجمہ:مولانا عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف فرما تھے تو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی ایسا آدمی ہے جو آج رات اپنی بیوی کے پاس نہ گیا ہو؟“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: جی ہاں میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبر میں اترو۔“ تو وہ قبر میں اترے۔

حوالہ حدیث شمائل ترمذي / باب ما جاء فى بكاء رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 326
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: سنده حسن
تخریج حدیث { « سنده حسن » } :
«صحيح بخاري (1285) من حديث ابي عامر العقدي به»