شمائل ترمذي
باب ما جاء فى صفة إدام رسول الله صلى الله عليه وسلم— رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا بیان
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سالن سے کدو تلاش کرتے تھے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسُ: «فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ حَوَالَيِ الْقَصْعَةِ» فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک درزی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کھانے پر گیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کی روٹی اور سالن پیش کیا جس میں شوربہ، کدو اور خشک کیے ہوئے گوشت کے ٹکڑے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ پیالے کے کناروں سے کدو کو تلاش کر رہے ہیں تو اس دن سے میں ہمیشہ کدو کو پسند کرتا ہوں۔