کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جہنم میں نظر کرنے کا کہ وہاں کون عذاب میں ہے، ہم اللہ سے جہنم سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 7489
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شريكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءُ ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ثَلاثَةً يُعَذَّبُونَ : امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ طُوَالَةً رَبَطَتْ هِرَّةً لَهَا لَمْ تُطْعِمْهَا ، وَلَمْ تَسْقِهَا ، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، فَهِيَ تَنْهَشُ قُبُلَهَا وَدُبُرَهَا ، وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ الَّذِي كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِذَا فُطِنَ لَهُ ، قَالَ : إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي ، وَالَّذِي سَرَقَ بَدَنَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں جنت میں داخل ہوا تو اہل جنت میں اکثریت غریبوں کی تھی۔ میں نے جہنم میں جھانکا تو اس میں اکثریت خواتین کی تھی۔ میں نے اس میں تین لوگوں کو دیکھا کہ انہیں عذاب ہو رہا تھا ایک حمیر سے تعلق رکھنے والی ایک طویل القامت عورت جس نے ایک بلی کو باندھ دیا تھا اور وہ اسے کھانے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی اور پینے کے لیے نہیں دیتی تھی اور اسے چھوڑتی بھی نہیں تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لے۔ وہ بلی اسے آگے کی طرف سے اور پیچھے کی طرف سے نوچتی تھی۔ میں نے جہنم میں بنو دعدع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو دیکھا جو اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کا سامان چوری کرتا تھا جب وہ پکڑا جاتا تھا، تو یہ کہتا تھا، یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ لٹک گئی تھی اور اس شخص کو دیکھا، جس نے اللہ کے رسول کے قربانی کے دو جانور چوری کیے تھے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7489
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «التعليق الرغيب» (3/ 159 - 160). * [أَبِي إِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو السبيعيُّ، وهو مُدلِّسٌ مُختلطٌ. وشريكٌ: هو ابنُ عبد الله القاضي ليس بالقويّ. وقول المعلِّق هنا (16/ 535): «ولكنَّه تُوبِعَ»! ليس بصحيح؛ بدليل أنَّهُ لم يذكر المتابعَ، وأنَّهُ أحالَ على الحديث المتقدم عنده برقم (2838) - يعني: حديث جرير عن عطاء بن السائبِ، المتقدم برقم (2827) -، وليسَ فيه قصةُ الجنَّة والنارِ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7446»