کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اس امت کے پانچ افراد جہنم میں داخل ہوں گے
حدیث نمبر: 7482
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ : الضَّعِيفُ الَّذِي لا يُؤْبَهُ لَهُ وَهُوَ فِيكُمْ تَبَعٌ لا يَبْغُونَ أَهْلا وَلا مَالا " ، قُلْتُ : وَيَكُونُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ مَا بِهِ إِلا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا : " وَرَجُلٌ لا يُصْبِحُ وَلا يُمْسِي إِلا وَهُوَ يُخَادِعُكَ عَنْ أَهْلِكِ وَمَالِكِ ، وَرَجُلٌ لا يُخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ إِلا خَانَهُ ، وَإِنَّ دَقَّ ، وَذَكَرَ الْكَذِبَ ، وَذَكَرَ الْبُخْلَ " .
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اہل جہنم پانچ قسم کے لوگ ہیں، وہ ضعیف شخص جس کی پرواہ نہیں کی جاتی اور وہ تمہارے درمیان پیروکار (تابع فرمان) کے طور پر رہتے ہیں، وہ نہ بیوی بچے چاہتے ہیں، نہ مال چاہتے ہیں (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اے ابوعبداللہ! کیا ایسا ہو گا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! میں نے زمانہ جاہلیت میں ایسے لوگوں کو پایا ہے، جو کی قبیلے کا پہرہ صرف اس لیے دیا کرتا تھا، تاکہ اس کے ذریعے (اس قبیلے کی کسی) لڑکی کے ساتھ زنا کر لے۔ “ وہ شخص جو صبح و شام تمہاری بیوی اور مال کے حوالے سے تمہارے ساتھ دھوکہ سے کام لے، وہ شخص جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہتی، وہ خیانت کرتا ہے، خواہ وہ چیز کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ پھر انہوں نے جھوٹ اور بخل کا بھی ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 7483
سَمِعْتُ الْهَيْثَمَ بْنَ خَلَفٍ الدُّورِيَّ بِبَغْدَادَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَى الأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ : " يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ فِي حَدِيثِ عَمْرٍو : إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا ، فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : إِنَّكُمْ تَجْعَلُونَ الْخَاصَّ عَامًّا ، هَذِهِ لِلْكُفَّارِ اقْرَؤُوا مَا قَبْلَهَا ، ثُمَّ تَلا : إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُمْ مَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ يُرِيدُونَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنَ النَّارِ ، وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنْهَا هَذِهِ لِلْكُفَّارِ .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے ان دونوں کانوں کے ذریعے سنا۔ انہوں نے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ” اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کرے گا۔ “ عمرو کی روایت میں یہ الفاظ ہیں۔ ایک شخص نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: ” وہ لوگ جہنم سے نکلنے کا ارادہ کریں گے لیکن وہ اس سے نکل نہیں سکیں گے۔ “ تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم لوگ خصوصی مفہوم سے عام مفہوم مراد لے رہے ہو۔ یہ کفار کے بارے میں ہے تم اس سے پہلے والے حصے کو بھی تلاوت کرو۔ انہوں نے یہ تلاوت کی: ” بے شک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اگر ان کے لیے زمین میں موجود سب کچھ ہو اور اس کی مانند مزید ان کے ساتھ ہو اور وہ قیامت کے دن کے عذاب کے لیے اسے فدیے کے طور پر دینا چاہیں، تو وہ ان کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا انہیں دردناک عذاب ہو گا وہ جہنم سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نہیں نکل سکیں گے۔ “ یہ آیت کفار کے لیے ہے۔