کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس سبب کا کہ جس کی وجہ سے گرمی اور سردی دونوں موسموں میں شدید ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7466
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَنَفِّسْنِي ، فَجَعَلَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ نَفَسَيْنِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ ، فَشِدَّةُ الْبَرْدِ الَّذِي تَجِدُونَ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا ، وَشِدَّةُ الْحَرِّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنْ حُرِّ جَهَنَّمَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی۔ اس نے عرض کی: اے میرے پروردگار! میرا کچھ حصہ دوسرے کو کھا جاتا ہے، تو مجھے سانس لینے کی اجازت دے، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہر سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی۔ ایک مرتبہ سردی کے موسم میں اور ایک مرتبہ گرمی کے موسم میں، تو یہ سردی کی وہ شدت ہوتی ہے جسے تم سردی کے موسم میں پاتے ہو اور گرمی کی وہ شدت ہوتی ہے جو جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ “