کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس وجہ کا کہ جس کی بنا پر لوگ اس آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں جو ان کے پاس ہے
حدیث نمبر: 7463
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَارُكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ضُرِبَتْ بِمَاءِ الْبَحْرِ ، وَلَوْلا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لأَحَدٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا 70 واں جز ہے۔ اس پر سمندر کا پانی ڈالا گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں کسی کے لیے فائدہ نہ رکھا ہوتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7463
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» -أيضا-، «التعليق الرغيب» (4/ 226). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7420»