کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ مومنین اپنے رب کو آخرت میں دل سے دیکھیں گے نہ کہ آنکھوں سے
حدیث نمبر: 7445
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ نَاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي يَوْمِ صَائِفٍ ، وَالسَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ ، غَيْرُ مُتَغَيِّمَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا سَحَابَةٌ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَالسَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ ، غَيْرُ مُتَغَيِّمَةٍ ، لَيْسَ فِيهَا سَحَابَةٌ ؟ " ، قَالُوا : لا ، قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، كَذَلِكَ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ، يَلْقَى الْعَبْدُ رَبَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : أَيْ فُلُ ، أَلَمْ أَخْلُقْكَ ؟ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ ؟ أَلَمْ أَكْرِمْكَ ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ ؟ أَلَمْ أُسَوِّدْكَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَظَنَنْتَ أَنَّكَ مُلاقِيَّ ؟ فَيَقُولُ : لا يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : الْيَوْمَ أَنْسَاكَ كَمَا نَسِيتَنِي ، قَالَ : وَيَلْقَاهُ الآخَرُ ، فَيَقُولُ : أَيْ فُلُ ، أَلَمْ أَخْلُقْكَ ؟ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ أَلَمْ أُزَوِّجْكَ ؟ أَلَمْ أُكْرِمْكَ ؟ أَلَمْ أُسَخِّرْ لَكَ الْخَيْلَ وَالإِبِلَ ؟ أَلَمْ أُسَوِّدْكَ وَأَذَرْكَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ ؟ فَيَقُولُ : بَلَى يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لِي ؟ فَيَقُولُ : آمَنْتُ بِكَ وَبِكِتَابِكَ ، وَبِرَسُولِكَ ، وَصَدَّقْتُ ، وَصَلَّيْتُ ، وَصُمْتُ ، فَيَقُولُ : فَهَا هُنَا إِذًا ، ثُمَّ يَقُولُ : أَلا نَبْعَثُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : فَيُفَكِّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ هَذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : وَذَلِكَ الْمُنَافِقُ الَّذِي يَغْضَبُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَذَلِكَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ ، فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ : انْطِقِي ، فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ ، وَعِظَامُهُ ، وَعَصَبُهُ ، بِمَا كَانَ يَعْمَلُ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ ، أَلا اتَّبَعَتْ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانَتْ تَعْبُدُ ، فَيَتْبَعُ عَبْدَةُ الصَّلِيبِ الصَّلِيبَ ، وَعَبْدَةُ النَّارِ النَّارَ ، وَعَبْدَةُ الأَوْثَانِ الأَوْثَانَ ، وَعَبْدَةُ الشَّيْطَانِ الشَّيْطَانَ ، وَيَتْبَعُ كُلُّ طَاغِيَةٍ طَاغِيَتَهَا إِلَى جَهَنَّمَ ، وَنَبْقَى أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ ، وَنَحْنُ الْمُؤْمِنُونَ فَيَأْتِينَا رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَنَحْنُ قِيَامٌ ، فَيَقُولُ : عَلامَ هَؤُلاءِ قِيَامٌ ؟ فَنَقُولُ : نَحْنُ عِبَادُ اللَّهِ الْمُؤْمِنُونَ آمَنَّا بِهِ ، وَلَمْ نُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَهَذَا مَقَامُنَا ، وَلَنْ نَبْرَحَ حَتَّى يَأْتِينَا رَبُّنَا ، وَهُوَ رَبُّنَا ، وَهُوَ يُثَبِّتُنَا ، فَيَقُولُ : وَهَلْ تَعْرِفُونَهُ ؟ فَنَقُولُ : سُبْحَانَهُ إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَهَهُنَا كَلِمَةٌ لا أَقُولُهَا لَكُمْ ، قَالَ : فَنَنْطَلِقُ حَتَّى نَأْتِي الْجِسْرَ وَعَلَيْهِ خَطَاطِيفُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ النَّاسَ ، وَعِنْدَهَا حَلَّتِ الشَّفَاعَةُ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ ، فَإِذَا جَاوَزَ الْجِسْرَ ، فَكُلُّ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا مِنَ الْمَالِ مِمَّا يَمْلِكُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَكُلُّ خَزَنَةِ الْجَنَّةِ تَدَعُوهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ هَذَا خَيْرٌ ، فَتَعَالَ ، يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَتَعَالَ ، يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ ، فَتَعَالَ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ عَبْدٌ لا تَوَى عَلَيْهِ ، يَدَعُ بَابًا ، وَيَلِجُ مِنْ آخَرَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ مَنْكِبَيْهِ : " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں صاف دن میں سورج کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے، جبکہ آسمان صاف ہو یعنی کوئی بادل نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں چودھویں رات میں چاند کو دیکھنے میں مشکل پیش آتی ہے جب کہ آسمان صاف ہو اور اس میں کوئی بادل موجود نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی تم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اسی طرح تمہیں قیامت کے دن اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی، جس طرح تمہیں ان دونوں (یعنی سورج اور چاند) میں سے کسی ایک کو دیکھنے میں مشکل پیش نہیں آتی۔
قیامت کے دن بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا تھا۔ کیا میں نے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت عطا نہیں کی تھی۔ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا۔ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا، تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! پروردگار فرمائے گا: کیا تمہیں اندازہ تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے۔ وہ عرض کرے گا جی نہیں اے میرے پروردگار۔ پروردگار فرمائے گا آج کے دن میں تمہیں اسی طرح بھلا دیتا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر دوسرا شخص پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ پروردگار فرمائے گا: اے فلاں کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا۔ کیا میں نے تمہیں سماعت اور بصارت عطا نہیں کی۔ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے۔ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا۔ تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے پروردگار، تو پروردگار فرمائے گا: تم نے میرے لیے کیا تیاری کی؟ وہ عرض کرے گا: میں تجھ پر، تیری کتاب پر، تیرے رسول پر ایمان لایا۔ میں نے تسبیح کی، میں نے نماز ادا کی، میں نے روزہ رکھا، تو پروردگار فرمائے گا: اچھا تو پھر ہم تمہارے خلاف گواہ نہ لے کے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا میرے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ وہ منافق شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہو گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو معذور کرے گا اور اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے زانو سے کہا: جائے گا: تم کلام کرو، تو اس کا زانوں، اس کی ہڈیاں، اس کے پٹھے اس چیز کے بارے میں بات کریں گے جو وہ عمل کرتا رہا تھا۔
پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا: خبردار! ہر امت اس کے پیچھے چلی جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی، تو صلیب کے عبادت گزار صلیب کے پیچھے چلے جائیں گے، آگ کے پجاری آگ کے پیچھے چلے جائیں گے، بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے، شیطان کے پجاری شیطان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ ہر سرکش کا پجاری سرکش کے پیچھے جہنم کی طرف چلا جائے گا۔ اے اہل ایمان پھر ہم باقی رہ جائیں گے ہم جو مومن ہوں گے۔ ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا۔ ہم کھڑے ہوئے ہوں گے وہ فرمائے گا تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ تو ہم عرض کریں گے ہم اللہ کے مومن بندے ہیں۔ ہم اس پر ایمان لائے، ہم نے کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ ہم یہیں کھڑے رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار نہیں آتا۔ وہ ہمارا پروردگار ہے وہ ہمیں ثابت رکھے گا، تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو ہم کہیں گے اس کی ذات پاک ہے جب وہ ہمیں پہچان کروائے گا تو ہم پہچان لیں گے۔
سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہاں ایک کلمہ ہے جو میں تمہارے سامنے بیان نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم چل پڑیں گے، یہاں تک کہ ہم پل صراط پر آئیں گے جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک رہے ہوں گے۔ اس مقام پر شفاعت حلال ہو گی (اور یہ کہا: جائے گا:) اے اللہ! سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر، اے اللہ سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر، اے اللہ سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر۔ جب پل سے پار ہو جائیں گے تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا، تو جنت کے تمام دربان اسے بلائیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے بندے اے مسلمان یہ بہتر ہے۔ ادھر آ جاؤ! اے اللہ کے بندے اے مسلمان ادھر آ جاؤ یہ بہتر ہے۔ اے اللہ کے بندے اے مسلمان ادھر آ جاؤ یہ بہتر ہے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: وہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایسے شخص کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا وہ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے سے داخل ہو جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ تم بھی ان میں سے ایک ہو گے۔
قیامت کے دن بندہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو پروردگار فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا تھا۔ کیا میں نے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت عطا نہیں کی تھی۔ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کیا۔ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا، تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں، اے میرے پروردگار! پروردگار فرمائے گا: کیا تمہیں اندازہ تھا کہ تم میری بارگاہ میں حاضر ہو گے۔ وہ عرض کرے گا جی نہیں اے میرے پروردگار۔ پروردگار فرمائے گا آج کے دن میں تمہیں اسی طرح بھلا دیتا ہوں، جس طرح تم مجھے بھول گئے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر دوسرا شخص پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔ پروردگار فرمائے گا: اے فلاں کیا میں نے تمہیں پیدا نہیں کیا۔ کیا میں نے تمہیں سماعت اور بصارت عطا نہیں کی۔ کیا میں نے تمہاری شادی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہاری عزت افزائی نہیں کروائی۔ کیا میں نے تمہارے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے۔ کیا میں نے تمہیں صاحب حیثیت نہیں بنایا تھا۔ تو وہ عرض کرے گا: جی ہاں اے میرے پروردگار، تو پروردگار فرمائے گا: تم نے میرے لیے کیا تیاری کی؟ وہ عرض کرے گا: میں تجھ پر، تیری کتاب پر، تیرے رسول پر ایمان لایا۔ میں نے تسبیح کی، میں نے نماز ادا کی، میں نے روزہ رکھا، تو پروردگار فرمائے گا: اچھا تو پھر ہم تمہارے خلاف گواہ نہ لے کے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا میرے خلاف کون گواہی دے سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: یہ وہ منافق شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ غضب ناک ہو گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس کو معذور کرے گا اور اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے زانو سے کہا: جائے گا: تم کلام کرو، تو اس کا زانوں، اس کی ہڈیاں، اس کے پٹھے اس چیز کے بارے میں بات کریں گے جو وہ عمل کرتا رہا تھا۔
پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا: خبردار! ہر امت اس کے پیچھے چلی جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی، تو صلیب کے عبادت گزار صلیب کے پیچھے چلے جائیں گے، آگ کے پجاری آگ کے پیچھے چلے جائیں گے، بتوں کے پجاری بتوں کے پیچھے چلے جائیں گے، شیطان کے پجاری شیطان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ ہر سرکش کا پجاری سرکش کے پیچھے جہنم کی طرف چلا جائے گا۔ اے اہل ایمان پھر ہم باقی رہ جائیں گے ہم جو مومن ہوں گے۔ ہمارا پروردگار ہمارے پاس آئے گا۔ ہم کھڑے ہوئے ہوں گے وہ فرمائے گا تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ تو ہم عرض کریں گے ہم اللہ کے مومن بندے ہیں۔ ہم اس پر ایمان لائے، ہم نے کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہرایا۔ ہم یہیں کھڑے رہیں گے جب تک ہمارا پروردگار نہیں آتا۔ وہ ہمارا پروردگار ہے وہ ہمیں ثابت رکھے گا، تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ تو ہم کہیں گے اس کی ذات پاک ہے جب وہ ہمیں پہچان کروائے گا تو ہم پہچان لیں گے۔
سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہاں ایک کلمہ ہے جو میں تمہارے سامنے بیان نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر ہم چل پڑیں گے، یہاں تک کہ ہم پل صراط پر آئیں گے جس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک رہے ہوں گے۔ اس مقام پر شفاعت حلال ہو گی (اور یہ کہا: جائے گا:) اے اللہ! سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر، اے اللہ سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر، اے اللہ سلامتی عطا کر، سلامتی عطا کر۔ جب پل سے پار ہو جائیں گے تو ہر وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہو گا، تو جنت کے تمام دربان اسے بلائیں گے اور کہیں گے اے اللہ کے بندے اے مسلمان یہ بہتر ہے۔ ادھر آ جاؤ! اے اللہ کے بندے اے مسلمان ادھر آ جاؤ یہ بہتر ہے۔ اے اللہ کے بندے اے مسلمان ادھر آ جاؤ یہ بہتر ہے۔
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: وہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایسے شخص کو تو کوئی نقصان نہیں ہو گا وہ ایک دروازے کو چھوڑ کر دوسرے سے داخل ہو جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے کہ تم بھی ان میں سے ایک ہو گے۔