کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف اسماعیل بن ابی خالد نے روایت کی
حدیث نمبر: 7444
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، قَالَ : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبُّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذِهِ الأَخْبَارُ فِي الرُّؤْيَةِ يَدْفَعُهَا مَنْ لَيْسَ الْعِلْمُ صِنَاعَتَهُ ، وَغَيْرُ مُسْتَحِيلٍ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يُمَكِّنُ الْمُؤْمِنِينَ الْمُخْتَارِينَ مِنْ عِبَادِهِ مِنَ النَّظَرِ إِلَى رُؤْيَتِهِ ، جَعَلْنَا اللَّهُ مِنْهُمْ بِفَضْلِهِ ، حَتَّى يَكُونَ فَرْقًا بَيْنَ الْكُفَّارِ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَالْكِتَابُ يَنْطِقُ بِمِثْلِ السُّنَنِ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا سَوَاءً ، قَوْلَهُ جَلَّ وَعَلا : كَلا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ، فَلَمَّا أَثْبَتَ الْحِجَابَ عَنْهُ لِلْكُفَّارِ ، دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّ غَيْرَ الْكُفَّارِ لا يُحْجَبُونَ عَنْهُ ، فَأَمَّا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا ، فَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَلَقَ الْخَلْقَ فِيهَا لِلْفَنَاءِ ، فَمُسْتَحِيلٌ أَنْ يَرَى بِالْعَيْنِ الْفَانِيَةِ الشَّيْءَ الْبَاقِي ، فَإِذَا أَنْشَأَ اللَّهُ الْخَلْقَ ، وَبَعَثَهُمْ مِنْ قُبُورِهِمْ لِلْبَقَاءِ فِي إِحْدَى الدَّارَيْنِ ، غَيْرُ مُسْتَحِيلٍ حِينَئِذٍ أَنْ يَرَى بِالْعَيْنِ الَّتِي خُلِقَتْ لِلْبَقَاءِ فِي الدَّارِ الْبَاقِيَةِ الشَّيْءَ الْبَاقِي ، لا يُنْكِرُ هَذَا الأَمْرَ إِلا مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ ، وَمَنَعَ بِالرَّأْيِ الْمَنْكُوسِ ، وَالْقِيَاسِ الْمَنْحُوسِ .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ عنقریب قیامت کے دن اپنے پروردگار کو یوں دیکھو گے، جس طرح تم اسے (یعنی چودھویں کے چاند کو) دیکھ رہے ہو جسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں آ رہی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں دیدار باری تعالیٰ کا ذکر ہے۔ ان روایات کو اس شخص نے پرے کر دیا ہے جس نے علم حاصل نہیں کیا اور وہ یہ کہتا ہے: یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے منتخب مومن بندوں کو اپنے دیدار کا شرف عطا کرے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل کے تحت ان لوگوں میں شامل کرے، تاکہ کفار اور اہل ایمان کے درمیان فرق ہو جائے اور کتاب میں بھی سنت کے مطابق حکم مذکور ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” خبردار! وہ لوگ اس دن اپنے پروردگار کے حوالے سے محجوب ہوں گے۔ “
تو جب کفار کے لیے حجاب کا حکم ثابت ہو گیا، تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے: جو لوگ کفار نہیں ہوں گے وہ محجوب نہیں ہوں گے۔ جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو فنا ہونے کے لیے پیدا کیا ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ فانی آنکھ باقی چیز کو دیکھ لے۔ جب اللہ تعالیٰ اس مخلوق کو پیدا کرے گا اور انہیں ان کی قبروں سے زندہ کرے گا تو یہ بقاء کے لیے ہو گا۔ اس صورت میں یہ ناممکن نہیں ہو گا کہ اس آنکھ کے ذریعے وہ پروردگار کا دیدار کریں جسے ہمیشہ رہنے والی دنیا میں باقی رہنے کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اس چیز کا دیدار کریں جو باقی رہنے والی ہے۔ اس بات کا انکار صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو علم سے ناواقف ہو اور الٹی رائے اور منحوس قیاس کے ذریعے اس کا انکار کرتا ہو۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ان تمام روایات میں دیدار باری تعالیٰ کا ذکر ہے۔ ان روایات کو اس شخص نے پرے کر دیا ہے جس نے علم حاصل نہیں کیا اور وہ یہ کہتا ہے: یہ بات ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اپنے منتخب مومن بندوں کو اپنے دیدار کا شرف عطا کرے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے فضل کے تحت ان لوگوں میں شامل کرے، تاکہ کفار اور اہل ایمان کے درمیان فرق ہو جائے اور کتاب میں بھی سنت کے مطابق حکم مذکور ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” خبردار! وہ لوگ اس دن اپنے پروردگار کے حوالے سے محجوب ہوں گے۔ “
تو جب کفار کے لیے حجاب کا حکم ثابت ہو گیا، تو یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے: جو لوگ کفار نہیں ہوں گے وہ محجوب نہیں ہوں گے۔ جہاں تک اس دنیا کا تعلق ہے تو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو فنا ہونے کے لیے پیدا کیا ہے، تو یہ بات ناممکن ہے کہ فانی آنکھ باقی چیز کو دیکھ لے۔ جب اللہ تعالیٰ اس مخلوق کو پیدا کرے گا اور انہیں ان کی قبروں سے زندہ کرے گا تو یہ بقاء کے لیے ہو گا۔ اس صورت میں یہ ناممکن نہیں ہو گا کہ اس آنکھ کے ذریعے وہ پروردگار کا دیدار کریں جسے ہمیشہ رہنے والی دنیا میں باقی رہنے کے لیے پیدا کیا ہے اور وہ اس چیز کا دیدار کریں جو باقی رہنے والی ہے۔ اس بات کا انکار صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو علم سے ناواقف ہو اور الٹی رائے اور منحوس قیاس کے ذریعے اس کا انکار کرتا ہو۔