کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ مومنین کا اپنے رب کو آخرت میں دیکھنا اس زائد نعمت کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حسنات کے ساتھ دینے کا وعدہ کیا
حدیث نمبر: 7441
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ : تَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الآيَةَ : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُحِبُّ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ ، فَيَقُولُونَ : وَمَا هُوَ ؟ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا ، وَيُبَيَّضْ وُجُوهَنَا ، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ ، وَيُجِرْنَا مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : فَيُكْشَفُ الْحِجَابُ ، فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ " .
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” جن لوگوں نے اچھائی کی ان کے لیے اچھائی ہے اور مزید ہے۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اہل جنت، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک منادی یہ اعلان کرے گا: اے اہل جنت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے لیے ایک وعدہ ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اسے تمہارے ساتھ پورا کر دے۔ وہ دریافت کریں گے: وہ کیا ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے میزان کو وزنی نہیں کیا، ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا اور ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور ہمیں جہنم سے نجات عطا نہیں کی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، تو پردہ ہٹایا جائے گا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے ان میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اپنے پروردگار کا دیدار کرنے سے زیادہ محبوب نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7441
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (472)، «تخريج الطحاوية» (206): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7398»
حدیث نمبر: 7442
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي غَيْلانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، وَحَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَنْ صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلاةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا ، فَافْعَلُوا " ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا .
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ تاریخ کی رات کو چودھویں کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: عنقریب تم اپنے پروردگار کا اسی طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اسے دیکھ رہے ہو اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی۔ اگر تم سے ہو سکے تو تم سورج کے طلوع ہونے سے پہلے والی اور غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہونا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” اور تم اپنے پروردگار کی حمد کے ہمراہ پاکی بیان کرو، سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7442
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ابن ماجه» (177): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7399»