کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تمہیں دنیا اور اس کے مثل دیا تو اس سے زائد کی نفی مقصود نہیں
حدیث نمبر: 7431
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا ، فَيُقَالُ لَهُ : انْطَلِقْ ، فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيَذْهَبُ ، فَيَدْخُلُ ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدِ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَيَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، قَالَ : فَيُقَالُ لَهُ : أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ لَهُ : تَمَنَّ ، فَيَتَمَنَّى ، فَيُقَالُ لَهُ : لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ " ، قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ” میں جہنم سے نکلنے والے آخری جہنمی سے واقف ہوں وہ ایسا شخص ہے جو گھسٹ کر باہر آئے گا، تو اسے کہا: جائے گا: تم جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ جائے گا اور داخل ہو گا تو لوگوں کو پائے گا کہ انہوں نے اپنی اپنی جگہ حاصل کر لی ہے۔ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! لوگوں نے اپنی رہائش گاہیں حاصل کر لی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس سے کہا: جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے جب تم دنیا میں ہوا کرتے تھے، وہ عرض کرے گا جی ہاں، تو اس سے کہا: جائے گا: تم آرزو کرو۔ وہ آرزو کرے گا، تو اس سے کہا: جائے گا: تم نے جو آرزو کی ہے وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ مزید ملتا ہے، تو وہ عرض کرے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے جب کہ تو بادشاہ ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دندان نظر آنے لگے۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دندان نظر آنے لگے۔