کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اللہ نے اس آدمی کے لیے جو ہم نے اس کی نعت بیان کی، جنت میں کھانوں اور مشروبات کی کیا کیفیت تیار کی
حدیث نمبر: 7428
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَكُونُ فِي النَّارِ قَوْمٌ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ يُخْرِجُهُمْ ، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ ، فَيُغَسَّلُونَ فِي عَيْنِ الْحَيَاةِ ، فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ : الْجَهَنَّمِيُّونَ ، لَوْ طَافَ بِأَحَدِهِمْ أَهْلُ الدُّنْيَا ، لأَطْعَمَهُمْ ، وَسَقَاهُمْ ، وَفَرَشَهُمْ ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ قَالَ : وَزَوَّجَهُمْ لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچھ لوگ جہنم میں ہوں گے جب تک اللہ نے چاہا وہ اس میں رہیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے گا اور انہیں باہر نکالے گا یہ لوگ جنت میں کم تر درجے کے لوگ ہوں گے۔ انہیں چشمہ حیات میں غسل دیا جائے گا۔ اہل جنت ان کا نام جہنمی رکھیں گے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک تمام اہل دنیا کے پاس جائے تو ان سب کو کھلا سکتا ہے پلا سکتا ہے ان سب کو بستر دے سکتا ہے (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ وہ ان کی شادیاں کروا سکتا ہے۔ پھر بھی اس کے پاس جو نعمتیں ہوں گی ان میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7428
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (834). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7385»