کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ ہم نے جس آدمی کی نعت بیان کی وہ ان لوگوں میں سے ہے جن پر جہنم واجب ہوئی تھی پھر اس سے نکالا گیا
حدیث نمبر: 7427
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنِّي لأَعْرِفُ آخِرَ رَجُلٍ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ خَرَجَ زَحْفًا ، فَقِيلَ لَهُ : ادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَدْخُلُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ ، فَيُقَالُ لَهُ : أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَقُولُ : تَمَنَّهْ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، تَنَافَسَ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ ، وَتَضَايَقُوا فِيهَا ، فَأَنَا أَسْأَلُكَ مِثْلَهَا ، فَيَقُولُ : لَكَ مِثْلَهَا وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ ذَلِكَ ، فَهُوَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلا " .
سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” میں جہنم سے نکلنے والے آخری شخص سے واقف ہوں۔ یہ وہ شخص ہے جو گھسٹتا ہوا باہر آئے گا۔ اسے کہا: جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں داخل ہو گا پھر وہ باہر آئے گا اور کہے گا: اے میرے پروردگار! لوگ تو اپنی جگہوں کو حاصل کر چکے ہیں۔ اس سے کہا: جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے جب تم دنیا میں رہا کرتے تھے۔ وہ کہے گا جی ہاں، تو پروردگار فرمائے گا تم آرزو کرو۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! اہل دنیا اپنی دنیا کی خواہش کیا کرتے تھے اور دنیا کے بارے میں تنگی کا شکار ہوتے تھے۔ میں تجھ سے اس کی مانند کا سوال کرتا ہوں۔ پروردگار فرمائے گا: تمہیں اس کی مانند ملتا ہے اور اس کا دس گنا (مزید) بھی ملتا ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:) یہ سب سے کم تر درجے کے جنتی کا مقام ہے۔ “