کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت کے اہل جب اس میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے کیا کھائیں گے، اللہ ہمیں اس سے نوازے
حدیث نمبر: 7422
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ بِبَيْرُوتَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الدَّارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ يَعْمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَ حَبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ : سَلامٌ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا ، فَقَالَ : لِمَ تَدْفَعُنِي ؟ فَقُلْتُ : أَلا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ الْيَهُودِيُّ : إِنَّمَا أَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : جِئْتُ أَسْأَلُكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " يَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ أَخْبَرْتُكَ ؟ " قَالَ : أَسْمَعُ مَا تُحَدِّثُ ، فَنَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ بِعُودٍ مَعَهُ ، وَقَالَ : " سَلْ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ " ، قَالَ : فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً ؟ فَقَالَ : " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ " ، قَالَ : مَا غَدَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا ؟ قَالَ : " يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا " ، قَالَ : فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " مِنْ عَيْنٍ فِيهَا تُسَمَّى سَلْسَبِيلا " ، قَالَ : صَدَقْتَ ، قَالَ : وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ إِلا نَبِيٌّ ، قَالَ : " يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ ؟ " ، فَقَالَ : أَسْمَعُ بِأُذُنِي ، جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ ، فَقَالَ : " مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ ، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلا مَاءُ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ ، وَإِذَا عَلا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ " ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : لَقَدْ صَدَقْتَ ، وَإِنَّكَ لِنَبِيٌّ ، وَانْصَرَفَ ، فَذَهَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي وَمَالِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى أَتَانِيَ اللَّهُ بِهِ " .
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ اسی دوران یہودیوں کا ایک عالم آیا اور بولا: اے سیدنا محمد! آپ کو سلام ہو۔ میں نے اسے دھکا دیا تو وہ گرنے کے قریب ہوا، اس نے مجھے کہا: تم نے مجھے دھکا کیوں دیا ہے۔ میں نے کہا: کیا تم یا رسول اللہ! نہیں کہہ سکتے۔ یہودی نے کہا: میں نے انہیں ان کے نام سے بلایا ہے۔ وہ نام جو ان کے گھر والوں نے ان کا رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرا نام محمد ہے۔ یہ وہ نام ہے جو میرے گھر والوں نے میرا رکھا ہے۔ اس یہودی نے کہا: میں آپ سے سوال کرنے کے لیے آیا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں خبر دوں تو یہ چیز تمہیں فائدہ دے گی۔ اس نے کہا: آپ جو بیان کر رہے ہیں میں اسے غور سے سن رہا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوال کرو۔ اس یہودی نے دریافت کیا، جس دن زمین کو دوسری زمین میں اور آسمانوں کو تبدیل کر دیا جائے گا اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ پل صراط سے کچھ پہلے ایک تاریکی میں ہوں گے۔ اس نے دریافت کیا: سب سے پہلے اسے کون لوگ عبور کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غریب مہاجرین۔ یہودی نے دریافت کیا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے ان کی خوراک کیا ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی کے جگر کا اضافی حصہ۔ اس نے دریافت کیا: اس کے بعد ان کی خوراک کیا ہو گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کے لیے جنت کا بیل ذبح کیا جائے گا جو جنت کے اطراف میں چرتا رہا ہو گا۔ یہودی نے دریافت کیا: ان لوگوں کا مشروب کیا ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک ایسے چشمے سے آئے گا، جس کا نام سلسبیل ہے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے۔ اس نے بتایا: میں آپ سے ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آیا تھا۔ جن کے بارے میں روئے زمین پر کوئی نہیں جانتا صرف کوئی نبی جان سکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تمہیں کچھ کہوں تو اس کا تمہیں فائدہ ہو گا۔ اس نے کہا: میں اپنے کانوں کے ذریعے سن رہا ہوں، میں نے آپ سے بچے کے بارے میں دریافت کرنا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا مادہ تولید سفید ہوتا ہے اور عورت کا مادہ زرد ہوتا ہے جب وہ دونوں ملیں اور مرد کا مادہ عورت کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکا ہوتا ہے۔ جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم کے تحت لڑکی ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے۔ آپ واقعی نبی ہیں پھر وہ چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی اس نے مجھ سے جن چیزوں کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ مجھے ان کے بارے میں علم نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے اس کا علم دے دیا گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7422
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 173). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7379»