کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس زمرہ کی کیفیت جو انبیاء صلوات اللہ علیہم کے بعد خلق میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگی
حدیث نمبر: 7421
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلَقِ اللَّهِ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلائِكَتِهِ : إِيتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ ، فَيَقُولُ الْمَلائِكَةُ : رَبَّنَا نَحْنُ سُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلاءِ فَنُسَلِّمَ عَلَيْهِمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ، وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ ، وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً ، قَالَ : فَتَأْتِيهِمُ الْمَلائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے کون جنت میں داخل ہو گا، تو لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے جنت میں سب سے پہلے غریب مہاجرین داخل ہوں گے جن کے لیے راستوں کو بند کر دیا گیا اور ان کے لیے مصیبتیں پیدا کر دی گئیں۔ ان میں سے کسی کا انتقال ہوتا تو اس کی ضرورت سینے میں ہی رہ جاتی اور وہ اسے پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں میں سے جسے چاہے گا اس سے یہ فرمائے گا۔ ان کو لاؤ اور انہیں سلام کرو۔ فرشتے عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار! ہم تیرے آسمان کے رہنے والے ہیں اور تیری مخلوق میں بہتر لوگ ہیں۔ کیا تو ہمیں یہ حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو سلام کریں۔ پروردگار فرمائے گا: یہ ایسے بندے تھے جنہوں نے میری عبادت کی اور کسی کو میرا شریک نہیں ٹھہرایا۔ ان کے لیے راستے بند کر دیے گئے اور مصیبتیں پیدا کر دی گئیں۔ ان میں سے کوئی شخص ایسی حالت میں فوت ہوتا کہ اس کی حاجت اس کے سینے میں ہوتی تھی۔ وہ اس کو پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس وقت فرشتے پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے اور ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے (اور یہ کہیں گے جس کا ذکر قرآن میں ہے) ” تم پر سلام ہو اس چیز کی وجہ سے جو تم نے صبر کیا اور آخرت کا گھر کتنا بہترین ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7421
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 86). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7378»