کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ سدرة المنتہٰی کی کیفیت جو جنت کے اہل کے سائے کی انتہا ہے
حدیث نمبر: 7415
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : " رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى ، فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ قِلالِ هَجَرَ ، وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ ، وَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ : نَهْرَانِ بَاطِنَانِ ، وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : أَمَّا الْبَاطِنَانِ ، فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ ، فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ " .
سیدنا مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو یہ بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: میرے سامنے سدرۃ المنتہی آیا تو اس کے پھل ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے۔ وہاں چار نہریں تھیں دو نہریں باطنی تھیں اور دو نہریں ظاہری تھیں۔ میں نے دریافت کیا: جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: جہاں تک باطنی دو نہروں کا تعلق ہے تو وہ جنت میں ہیں اور جہاں تک ظاہری دو نہروں کا تعلق ہے تو وہ نیل اور فرات ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7415
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (112). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7372»