کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ فردوس اعلیٰ میں انبیاء کے علاوہ کوئی نہیں رہتا
حدیث نمبر: 7391
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَاجِكٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ هَلَكَ حَارِثَةُ يَوْمَ بَدْرٍ ، أَصَابَهُ سَهْمُ غَرْبٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مَوْقِعَ حَارِثَةَ مِنْ قَلْبِي ، فَإِنْ كَانَ فِي الْجَنَّةِ لَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ ، وَإِلا سَوْفَ تَرَى مَا أَصْنَعُ ، فَقَالَ لَهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَجَنَّةٌ وَاحِدَةٌ هِيَ ، إِنَّمَا هِيَ جِنَانٌ كَثِيرَةٌ ، وَإِنَّهُ فِي الْفِرْدَوْسِ الأَعْلَى " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام حارثہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں انتقال کر گئے تھے۔ انہیں ایک نامعلوم تیر لگا تھا۔ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! حارثہ کی میرے دل میں جو جگہ تھی اس سے آپ واقف ہیں۔ اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس پر نہیں روتی۔ ورنہ پھر آپ دیکھ لیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: کیا جنت کا ایک درجہ ہے، جنت کے کئی درجات ہیں اور وہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔