کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور مطیع بندوں کے لیے جنت کے بناؤ کی کیفیت
حدیث نمبر: 7387
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فَرَحُ بْنُ رَوَاحَةَ الْمَنْبِجِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ رَقَّتْ قُلُوبَنَا ، وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الآخِرَةِ ، وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا ، وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالأَوْلادَ ، فَقَالَ : " لَوْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلائِكَةُ بِأَكُفِّكُمْ ، وَلَوْ أَنَّكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ " . قَالَ : قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنَا عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ : " لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، وَمِلاطُهَا الْمِسْكُ الأَذْفَرُ ، وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ أَوِ الْيَاقُوتُ ، وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ ، مَنْ يَدْخُلْهَا يَنْعَمْ فَلا يَبْؤُسُ ، وَيَخْلُدْ لا يَمُوتُ ، لا تَبْلَى ثِيَابُهُ ، وَلا يَفْنَى شَبَابُهُ . ثَلاثَةٌ لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ : الإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاوَاتِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ : وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہو جاتے ہیں، اور ہمیں آخرت کی فکر ہو جاتی ہے لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں، تو ہمیں دنیا اچھی لگنے لگتی ہے اور ہم اپنے بیوی بچوں میں گم ہو جاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مستقل اسی حالت میں رہو جو تمہاری حالت اس وقت ہوتی ہے جب تم میرے پاس ہوتے ہو، تو فرشتے اپنے ہاتھوں کے ساتھ تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگ پڑیں اور اگر تم اپنے گھروں میں رہنے کے دوران گناہ نہ کرو، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو لے آئے گا جو گناہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ہمیں جنت اور اس کی بناوٹ کے بارے میں بتائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔ اس کا گارا مشک اذفر کا ہے۔ اس کی کنکریاں موتیوں اور یاقوت کی ہیں۔ اس کی مٹی زعفران ہے، جو شخص اس میں داخل ہو گا۔ وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہے گا کبھی پریشان نہیں ہو گا اور ہمیشہ زندہ رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اس کی جوانی ختم نہیں ہو گی۔ تین لوگ ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی۔ عادل حکمران، روزہ دار شخص جب افطاری کرتا ہے اور مظلوم شخص جس کی دعا بادلوں سے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور پروردگار یہ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ عرصے کے بعد کروں۔