حدیث نمبر: 7385
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ ، وَابْنِ أَبْجَرَ ، سمعا الشعبي يُحَدِّثُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَرْفَعْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ مُوسَى : أَيْ رَبِّ ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَرْفَعُ مَنْزِلَةً ؟ قَالَ : سَأُحَدِّثُكَ عَنْهُمْ ، أَعْدَدْتُ كَرَامَتَهُمْ بِيَدِي ، وَخَتَمْتُ عَلَيْهَا ، فَلا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " ، وَمِصْدَاقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار! اہل جنت میں سب سے بلند مرتبہ کس کا ہو گا، تو پروردگار نے فرمایا: میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں نے اپنے دست قدرت کے ذریعے ان کی عزت افزائی کا سامان تیار کیا ہے اور میں نے اس پر مہر لگا دی ہے وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہے کسی کان نے اس کے بارے میں سنا نہیں اور کسی انسان کے ذہن میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہو گا۔ (راوی کہتے ہیں) اس کا مصداق اللہ کی کتاب میں موجود (یہ آیت ہے) ” کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ “