کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس استدلال کا کہ اہل جنت کو اہل جہنم سے علم، دین اور عقل کے اہل کی تعریف سے پہچانا جائے گا
حدیث نمبر: 7384
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ زُهَيْرٍ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ بِالنَّبَاءَةِ ، أَوِ النَّبَاوَةِ مِنَ الطَّائِفِ : " تُوشِكُونَ أَنْ تَعَلَمُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، أَوْ خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ ، وَلا أَعْلَمُهُ إِلا قَالَ : أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئَ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ ، بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
ابوبکر بن ابوزہیر ثقفی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نباہ یا نباوہ کے مقام پر جس کا تعلق طائف سے ہے، خطبے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ” عنقریب تم لوگ اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کو جان لو گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) برے لوگوں کے مقابلے میں بہتر لوگوں کو جان لو گے۔ “
(راوی کہتے ہیں) میرے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ” اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کو پہچان لو گے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کس چیز کے ذریعے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی تعریف اور بری تعریف کے ذریعے، تم لوگ ایک دوسرے کے بارے میں گواہ ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7384
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «تخريج الطحاوية» (ص 489). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات رجال مسلم غير أبي بكر بن أبي زهير
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7341»